Tafseer-e-Usmani - An-Nisaa : 53
وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا
وَلَئِنْ : اور اگر اَصَابَكُمْ : تمہیں پہنچے فَضْلٌ : کوئی فضل مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے لَيَقُوْلَنَّ : تو ضرور کہے گا كَاَنْ : گویا لَّمْ تَكُنْ : نہ تھی بَيْنَكُمْ : تمہارے درمیان وَبَيْنَهٗ : اور اس کے درمیان مَوَدَّةٌ : کوئی دوستی يّٰلَيْتَنِيْ : اے کاش میں كُنْتُ : میں ہوتا مَعَھُمْ : ان کے ساتھ فَاَفُوْزَ : تو مراد پاتا فَوْزًا : مراد عَظِيْمًا : بڑی
کیا ان کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں پھر تو یہ نہ دیں گے لوگوں کو ایک تل برابر3
3  یہود اپنے خیال میں جانتے تھے کہ پیغمبری اور دین کی سرداری ہماری میراث ہے اور ہمیں کو لائق ہے۔ اس لئے عرب کے پیغمبر کی متابعت سے عار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آخر کو حکومت اور بادشاہت ہمیں کو پہنچ رہے گی برائے چندے اوروں کو بھی مل جائے تو کچھ مضائقہ نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ کیا یہود کا کچھ حصہ ہے سلطنت میں یعنی ہرگز نہیں۔ اگر یہ حاکم ہوجائیں تو لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں۔ یعنی ایسے بخیل ہیں کہ بادشاہت میں فقیر کو تل برابر بھی نہ دیں۔
Top