Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Maaida : 36
قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠   ۧ
قُلْ : کہدیجئے لَّا يَسْتَوِي : برابر نہیں الْخَبِيْثُ : ناپاک وَالطَّيِّبُ : اور پاک وَلَوْ : خواہ اَعْجَبَكَ : تمہیں اچھی لگے كَثْرَةُ : کثرت الْخَبِيْثِ : ناپاک فَاتَّقُوا : سو ڈرو اللّٰهَ : اللہ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ : اے عقل والو لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم تُفْلِحُوْنَ : تم فلاح پاؤ
جو لوگ کافر ہیں اگر انکے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال و متاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہوتا کہ قیامت کے روز عذاب سے (رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور انکو درد دینے والا عذاب ہوگا۔
(36۔ 37) اگر کفار کے پاس پوری دنیا کا مال بلکہ اس سے دو گنا بھی ہو اور پھر اسے اپنی جانوں کے فدیہ کے طور پر ادا کریں، پھر بھی یہ فدیہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور یہ دوزخ سے کسی طرح بھی نہیں نکلیں گے اور ہمیشہ عذاب میں رہیں گے جس میں کبھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
Top