Bayan-ul-Quran - Al-A'raaf : 53
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ اٰمَنُوْا : ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے لَا نُكَلِّفُ : ہم بوجھ نہیں ڈالتے نَفْسًا : کسی پر اِلَّا : مگر وُسْعَهَآ : اس کی وسعت اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ : جنت والے هُمْ : وہ فِيْهَا : اس میں خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہیں گے
یہ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے اس کی حقیقت کے مشاہدے کے ! جس دن اس کا مصداق ظاہر ہوجائے گا تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کیے رکھا تھا کہ یقیناً ہمارے پروردگار کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے تو کیا (اب) ہیں ہمارے لیے کوئی شفاعت کرنے والے کہ ہماری شفاعت کریں یا کوئی صورت کہ ہمیں (دنیا میں) لوٹا دیا جائے تاکہ ہم عمل کریں اس کے برعکس جو کچھ (پہلے) ہم کرتے رہے تھے !) وہ تو اپنے آپ کو برباد کرچکے اور جو افترا وہ کرتے رہے تھے وہ ان سے گم ہوگیا۔
آیت 53 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ تَاْوِیْلَہٗ ط یعنی کیا یہ لوگ آیات عذاب کے عملی ظہور کا انتظار کر رہے ہیں ؟ کیا یہ انتظار کر رہے ہیں کہ وقفۂ مہلت کا یہ بند ٹوٹ جائے اور واقعتا ان کے اوپر عذاب کا دھارا چھوٹ پڑے۔ کیا یہ لوگ اس انجام کا انتظار کر رہے ہیں ؟ قَدْ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ A اس دن وہ لوگ دوبارہ دنیا میں جانے کی خواہش کریں گے ‘ لیکن تب انہیں اس طرح کا کوئی موقع فراہم کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہوگا۔
Top