آسان قرآن
Aasan Quran · 3. Aal-i-Imraan · Ayah 145
وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ﴿145﴾
- وَمَا كَانَاور نہیں
- لِنَفْسٍکسی شخص کے لیے
- اَنْکہ
- تَمُوْتَوہ مرے
- اِلَّابغیر
- بِاِذْنِحکم سے
- اللّٰهِاللہ
- كِتٰبًالکھا ہوا
- مُّؤَجَّلًامقررہ وقت
- وَمَنْاور جو
- يُّرِدْچاہے گا
- ثَوَابَانعام
- الدُّنْيَادنیا
- نُؤْتِھٖہم دیں گے اسکو
- مِنْھَااس سے
- وَمَنْاور جو
- يُّرِدْچاہے گا
- ثَوَابَبدلہ
- الْاٰخِرَةِآخرت
- نُؤْتِھٖہم دیں گے اسکو
- مِنْھَااس سے
- وَ سَنَجْزِياور ہم جلد جزا دیں گے
- الشّٰكِرِيْنَشکر کرنے والے
Translation · Aasan Quran
اور یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آجائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ اور جو شخص دنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ دے دیں گے، اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا ہم اسے اس کا حصہ عطا کردیں گے، (48) اور جو لوگ شکر گزار ہیں ان کو ہم جلد ہی ان کا اجر عطا کریں گے۔
Tafseer · Aasan Quran
48: اس سے اشارہ مال غنیمت کی طرف ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص صرف مال غنیمت حاصل کرنے کی نیت سے جہاد میں شریک ہوگا، اسے مال غنیمت میں سے حصہ تو مل جائے گا، لیکن آخرت کا ثواب حاصل نہیں ہوگا، اس کے برعکس اگر اصل نیت اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی ہوگی تو آخرت کا ثواب حاصل ہوگا، اور مال غنیمت بھی ایک اضافی فائدے کے طور پر ملے گا (روح المعانی)