Bayan-ul-Quran - Al-Anbiyaa : 88
وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ
وَزَكَرِيَّآ : اور زکریا اِذْ نَادٰي : جب اس نے پکارا رَبَّهٗ : اپنا رب رَبِّ : اے میرے رب لَا تَذَرْنِيْ : نہ چھوڑ مجھے فَرْدًا : اکیلا وَّاَنْتَ : اور تو خَيْرُ : بہتر الْوٰرِثِيْنَ : وارث (جمع)
سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو اس گٹھن سے نجات دی اور ہم اسی طرح (اور) ایمان والوں کو (بھی کرب و بلا سے) نجات دیا کرتے ہیں۔ (ف 6)
6۔ حضرت یونس (علیہ السلام) سے اس واقعہ میں کوئی امر کی مخالفت نہیں ہوئی، صرف اجتہاد میں غلطی ہوئی، جو امت کے لئے عفو ہے مگر انبیاء کی تربیت و تہذیب زائد مقصود ہوتی ہے، اس لئے یہ ابتلاء ہوا۔
Top