Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 13
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ
شَرَعَ لَكُمْ : اس نے مقرر کیا تمہارے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا وَصّٰى بِهٖ : جس کی وصیت کی ساتھ اس کے نُوْحًا : نوح کو وَّالَّذِيْٓ : اور وہ چیز اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ : جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف وَمَا وَصَّيْنَا : اور جو وصیت کی ہم نے بِهٖٓ : ساتھ اس کے اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم کو وَمُوْسٰى : اور موسیٰ کو وَعِيْسٰٓى : اور عیسیٰ کو اَنْ : کہ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ : قائم کرو دین کو وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ : اور نہ تم اختلاف کرو اس میں۔ نہ تفرقہ ڈالو اس میں كَبُرَ : بڑا ہے۔ بھاری ہے عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ : مشرکوں پر مَا : جو تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ : تم بلاتے ہو ان کو طرف اس کے ۭ اَللّٰهُ : اللہ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ : کھینچ لیتا ہے اپنی طرف مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ : اور ہدایت دیتا ہے۔ رہنمائی کرتا ہے، اپنی طرف مَنْ يُّنِيْبُ : جو رجوع کرتا ہے
اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا جس کا تاکیدی حکم اس نے نوح کو دیا اور جس کی وحی ہم نے تیری طرف کی اور جس کا تاکیدی حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، یہ کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس میں جدا جدا نہ ہوجاؤ۔ مشرکوں پر وہ بات بھاری ہے جس کی طرف تو انھیں بلاتا ہے، اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔
(1) شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحاً : سورت کے شروع میں جو بات فرمائی :(کذلک یوحی الیک و الی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم) (اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے) یہاں سے وہی بات مزید تفصیل کے ساتھ بیان ہو رہی ہے۔ ”لکم“ سے خطاب ہماری امت کو ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کوئی اجنبی یا انوکھا دین مقرر نہیں فرمایا، یہ وہی دین ہے جو اس نے پہلے تمام انبیاء کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہے اور وہ ہے اسلام جیسا کہ فرمایا :(ان الذین عند اللہ الاسلام) (آل عمران : 19) ”بیشک دین اللہ کے نزدیک واحد کی عبادت و اطاعت ہے۔ تمام انبیاء و رسل کی طرف اسی ایک دین کی وحی کی گئی ہے۔ ، فرمایا :(وما ارسلنا من قبلک من رسول اللا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون) (النبیائ : 25)”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ سورة انعام میں توحید کی تاکید اور شرک کا رد کرنے کے بعد نوح اور ابراہیم ؑ سمیت اٹھارہ پیغمبروں کا ذکر ان کا نام لے کر فرمایا، پھر ان کے آباء اولاد اور بھائیوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر یہ لوگ شرک کرتے تو ان کا وہ سب کچھ ضائع ہوجاتا جو وہ کرتے رہے تھے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو ان کے طریقے پر چلنے کا حکم دیا اور فرمایا : (اولئک الذین ھدی اللہ فیھا لھم اقتدہ) (الانعام : 90) ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“ (2) دین کن چیزوں کا نام ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(وما امروآ الا لیعبدواللہ مخلصین لہ الدین ، حنفآء ویقیموا الصلوۃ ویوتوا الزکوۃ و ذلک دین القیمۃ) (البینۃ : 5)”اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میں کہ اس کے لئے دین کو خالص کرنے والے، ایک طرف ہونے والے ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اخلاص کیساتھ اللہ واحد کی عبادت کرنا، نماز قائم کرنا اور زکوۃ دینا دین ہے، جس کا پہلی امتوں کو بھی حکم تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی مشہور حدیث جبریل میں رسول اللہ ﷺ نے اسلام، ایمان اور احسان کی تفصیل فرمائی، پھر قیامت اور اس کی چند علامات کا ذکر فرمایا، جب جبریل ؑ چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا :(فانہ جبریل اتاکم یعلمکم دینکم) (مسلم، الایمان، باب بیان الایمان والاسلام …8 بخاری : 50)”وہ جبریل ؑ تھے، تمہارے پاس آئے تھے، تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے پانچوں ارکان دین ہیں، اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، ان کے رسولوں، اس کی کتاب، یوم آخرت اور تقدیر پر ایمان دین ہے، علم میں اخلاص اور احسان دین ہے، قیامت کے معاملات کی فکر دین ہے۔ پھر جب ایمان دین ہے تو ایمان میں شامل وہ تمام چیزیں بھی دین ہیں جنہیں قرآن مجید یا حدیث میں ایمان یا ایمان کی شاخ قرار دیا گیا ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ نے باب امور الایمان“ میں قرآن مجید کی دو آیات نقل فرمائی ہیں، ایک سورة بقرہ کی آیت :(لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب و لکن البرمن امن باللہ والیوم الاخر والملئکۃ و الکتب والنبین ، واتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتی والمسکین و ابن السبیل، والسآئلین و فی الرقاب ، واقامم الصلوۃ واتی الزکوۃ والموفون بعھد ھم اذا عھدوا والصبرین فی الباسآء والصرآء وحین الباس اولئک الذین صدقوا، واولئک ھم المنتقون) (البقرۃ : 188) ”نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو اور لیکن اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ اور یوم آخرت اور فرشتوں اور کتاب اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال دے اس کی محبت کے باوجود قربات والوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر اور مانگنے والوں کو اور گردنیں چھڑانے میں اور نماز قائم کرے اور زکوۃ دے اور جو اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں جب عہد کریں اور خصوصاً جو تنگی اور تکلیف میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ہیں، یہی لوگ ہیں جنہوں نے سچ کہا اور یہی بچنے والے ہیں۔“ اور سورة مومنوں کی ابتدائی آیات :(قد افلح المومنون الذین ھم فی صلاتھم خشعون والذین ھم عن الغومعرضون والذین ھم للزکوۃ فعلون والذین ھم لفروجھم حفظون الا علی ازواجھم اوما ملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین فمن ابتغی ورآء ذلک فاولئک ھم العدون والذین ھم لامتھم وعھدھم راعون والذین ھم علی صلوتھم یحافظون اولئک ھم الوارثون الذین یرثون الفردوس، ھم فیھا خلدون) (المومنون : 1 تا 11) ”یقینا کامیاب ہوگئے مومن۔ وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں اور وہی جو لغو کاموں سے منہ موڑنے والے ہیں۔ اور وہی لوگ جو (ہر عمل) پاک ہونے ہی کے لئے کرنے والے ہیں۔ اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کئے ہوئے نہیں ہیں۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والیہیں اور وہی جو اپنی نمازوں کی خوب حفاظت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔“ اس کے بعد یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الایمان بضع وستون شعبۃ ، والحیاء شعبۃ من الایمان) (بخاری، الایمان، بابا مور الایمان : 9۔ مسلم : 35)”ایمان کے ساٹھ (60) سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کا جزو ہے۔“ اس کے بعد مختلف ابواب میں امور دین کا بیان فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ کہ تمام انبیائک ا اصل دین ایک ہے، البتہ کسی عمل کی ادائیگی کی کیفیت میں فرق ہو ستکا ہے۔ مثلاً نماز ہر امت پر فرض تھی، اس کے اوقات اور رکعات کی تعداد وغیرہ میں فرق ہوسکتا ہے۔ روزہ سب فرض تھا، مگر اس کی کیفیت میں اختلاف معلوم ہے۔ زکوۃ ہر امت پر فرض تھی، مگر اس کے نصاب اور مقدار وغیرہ میں فرق ہو ستکا ہے۔ اسی طرح مختلف اقوام اور اوقات کے لحاظ سے بعض اشیاء کی تحلیل و تحریم میں اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق نسخ ہوسکتا ہے، تبدیلی ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ بعض امتوں میں کئی معاملات میں تخفیف اور بعض میں سختی ہوسکتی ہے، مگر اصل دین ایک ہے۔ یہی مطلب ہے اس حدیث کا جو اس سورت کی تیسری آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے :(الانبیاء اخوۃ لعلات) (بخاری : 3773)”انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں۔“ یہاں تک کہ خاتم النبین ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مکمل فرما دیا، فرمایا : (الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا) (المائدۃ : 3)”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کرلیا۔“ (3) والذین اوحینا الیک وما وضینا بہ …: اگرچہ تمام انبیاء کا دین ایک تھا، مگر یہاں صرف پانچ پیغمبروں کا ذکر فرمایا اور ان کی ترتیب بھی ان کے زمانے کے حساب سے نہیں رکھی۔ مفسرین فرماتے ہیں تمام انبیاء کا نام لینا تو ممکن نہ تھا اور نہ ہی اس کی ضرورت تھی (دیکھیے مومن : 78) اس لئے ہر مقام پر اس کے مناسب انبیاء کا ذکر فرمایا۔ یہاں پہلے دو رسولوں کا ذکر فرمایا جن میں سے نوح ؑ زمین والوں کی طرف سب سے پہلے رسول تھے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے۔ (دیکھے بخاری :3330) اس سے پہلے آدم ؑ بیشک نبی تھے، مگر انھیں کسی امت کی طرف مبعوث نہیں کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے رسول کے ساتھ ہی سب سے آخری نبی ﷺ کا ذکر کیا گیا، مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ دین پہلے رسول سے آخری رسول تک ایک ہی ہے۔ اس کے بعد تین جلیل القدر رسولوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے وقت آسمانی مذاہب میں سے انھی تینوں کے پیروکار ہونے کے مدعی تمام دنیا میں پائے جاتے تھے۔ عرب کے مشرکین ابراہیمی ہونے کے دعوے دار تھے، یہودی موسیٰ ؑ اور نصرانی عیسیٰ ؑ کے امتی کہلاتے تھے۔ ان کے علاوہ کسی پیغمبر کی طرف منسوب کوئی قابل ذکر قوم نہ تھی۔ اس لئے فرمایا کہ ان سب کا دین ایک ہے، جو محمد ﷺ لے کر آئے ہیں۔ سورة احزاب میں بھی ان پانچ انبیاء کا ذکر ایک آیت میں آیا ہے۔ دیکھیے سورة احزاب (7)۔ (4) ان اقیموا الدین : یعنی اللہ تعالیٰ نے ان تمام پیغمبروں کو حکم دیا کہ دین قائم کرو دین قائم کرنے میں خود اس پر عمل کرنا بھی شامل ہے، اس کی دعوت و تبلیغ بھی اور عملاً اسے نافذ کرنا بھی۔ دعوت کے ساتھ ساتھ حسب استطاعت کفار سے جنگ کا بھی حکم دیا، اس وقت تک کہ وہ کلمہ پڑھیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ سورة توبہ میں مشرکین کے متعلق حکم دیا کہ انھیں چار ماہ تک مکہ میں آنے جانے کی اجازت ہے، فرمایا :(فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث و جدثموھم وخذوھم واحضروھم واقعدوالھم کل مرصد فان تابوا و اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ فخلوا سبیلھم ، ان اللہ غفور رحیم) (التوبۃ : 5)”پس جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لئے ہر گھات کی جگہ بیٹھو، پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (امرت ان اقاتل الناس حتی یشھدوان لا الہ الا اللہ وان محمداً رسول اللہ ، ویقیمو الصلاۃ و یوتوا الزکاۃ فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دماء ھم و اموالھم الا بحق الاسلام، وجسابھم علی اللہ) (بخاری، الایمان، باب (فان تابوا و اقاموا الصلاۃ …): 25)”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں، تو جب وہ ایسا کریں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اموال محفوظ کرلئے، مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔“ اہل کتاب میں سے جو لوگ دین حق قبول نہیں کرتے ان سے جزیہ وصول کرنے تک لڑتے رہنے کا حکم دیا، فرمایا :(قاتلوا الذین لایومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولایحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولایدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتب حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صغرون) (التوبۃ : 29) ”لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخر پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں، ان لوگوں میں سے جنھیں کتاب دی گئی ہے، یہاں تک کہ وہ ساتھ سے جزیہ دیں اور وہ حقیر ہوں۔“ ظاہر ہے دین کا قیام اور اس پر پوری طرح عمل اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ دوسرے تمام ادیان پر غالب ہو، جیسا کہ فرمایا :(ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ، وکفی باللہ شھیداً) (الفتح : 28) ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے اور اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔“ دین اسلام میں نماز پڑھنا اور اپنی زکوۃ دے دینا کافی نہیں، اللہ کی زمین پر اس کا نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے کہ شخص مسجد میں آکر نماز پڑھے اور زکوۃ ادا کرے، فرمایا :(ولینصرن اللہ من ینصرہ، ان اللہ لقوی عزیز الذین ان مکنھم فی الارض اقاموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر، وللہ عاقبۃ الامور) (الحج : 30، 31)”اور یقیناً اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بیشک اللہ یقیناً بہت قوت والا ، سب پر غالب ہے۔ وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔“ اسلام کا بہت بڑا حصہ وہ ہے جس پر عمل اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب حکومت کی باگ ڈور ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو، اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل کرنے کا مقصد بیان فرمایا :(انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتخکم بین الناس بما اربک اللہ) (النسائ : 105)”بیشک ہے۔”ظاہر ہے لوگوں کے درمیان اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ تبھی ہو سکے گا جب اس کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کی حکومت ہوگی، کفار کی سلطنت میں نماز کا وہ نظام جس میں ہر مسلم حتیٰ کہ منافقین بھی مسجد میں آکر نماز پڑھتے ہیں، خواہ سست کھڑے ہو کر پڑھیں یاد کھاوے کے لئے پڑھیں، قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ (دیکھیے نسائ : 143) زکوۃ کی تحصیل (توبہ : 103) اور جاری رکھنے والوں کے خلاف اعلان جنگ اسی وقت عمل میں آسکتا ہے کہ ملک کی حکومت اور معیشت ایمان والوں کے ہاتھ میں ہو۔ کتاب اللہ میں قتل اور جراحات کے قصاص کا حکم (بقرہ :178۔ مائدہ : 45) چوری پر ہاتھ کاٹنے کا حکم (مائدہ : 38) اور زنا اور قذف پر حد جاری کرنے کا حکم (نور : 2 تا 4) مسلم حکام کو دیا گیا ہے، کفار کی عدالت اور ان کی پولیس کو نہیں دیا گیا کہ وہ کفار کی حکومت میں رہ کر ان کی فوج میں بھرتی ہو کر کفر کی خاطر لڑیں گے اور کفار سے جزیہ لینے کا حکم (توبہ : 29) اس مفرضوے کے ساتھ نہیں دیا گیا کہ مسلمان کفار کے محکوم رہ کر ان سے جزیہ وصول کریں گے۔ اسلامی احکام کا یہ نقشہ صرف مدینہ میں جا کر ہی پیش نہیں ہوا، مکی سورتوں میں بھی یہی بات سمجھائی گی ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (80، 81) ، قصص (85) ، روم (1 تا 7) ، صفاتا (171 تا 173) ، ص (11) ، قمر (43 تا 45) اور سورة مزمل (20) رسول اللہ ﷺ کی زندگی اقامت دین کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے دین قائم کرنے کے لئے دعوت و تبلیغ اور تولار دونوں سے پورے عرب کو حلقہ بگوش اسلام کیا اور ایسی حکومت قائم کردی جو اللہ تعالیٰ کے پورے دین پر عمل کی ضامن تھی۔ آپ ﷺ کے بعد خل فائے اسلام نے اس فریضہ کی تکمیل کی، حتیٰ کہ اللہ کا دین زمین کے مشرق و مغرب میں قائم ہوگیا۔ پھر مسلمان اپنی نا اہلی اور کتاب اللہ کے تقاضوں کو نہ سمجھنے یا جان بوجھ کر اسے پس پشت پھینک کر جہاد ترک کردینے کے نتیجے میں کفار کے محکوم ہوگئے۔ اب ان میں سے کسی کے ہاتھ میں اسلام کی دوچار چیزیں ہیں اور کسی کے ہاتھ میں پانچ دس یا کم و بیش۔ ان کی باقی ساری زندگی کفر کے نظام کی پابند ہے اور افسوس یہ کہ وہ اس پر قانع ہیں اور کفر کے نظام کے پرزے بن چکے ہیں اور ان کے بہت سے لوگ دین اسلام کے غلبے سے مایوس ہو کر جمہوریت اور کفر کے دوسرے نظاموں کو توڑنے کی کوشش کے بجائے انھیں اسلام ثابت کرنے کی جدوجہد میں لگ گئے ہیں۔ ہاں ! رسول اللہ ں کی بشارت کے مطابق ایک مجاہدین کی جماعت ”طائفہ منصورہ“ باقی ہے اور ہمیشہ رہے گی، جو کبھی کفر کی بالا دستی قبول نہیں کرے گی اور دین کے غلبہ کے لئے زبانی کلامی فلسفوں کے بجائے دعوت کے ساتھ ساتھ قتال کا فریضہ بھی سرانجام دیتی رہے گی اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نصرت سے بہرہ یاب رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس مبارک میں شامل فرما دے۔ (آمین) (5) ولا تنفرقوا فیہ : دین میں جدا جدا ہونے کی کئی صورتیں ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اہل کتاب کی طرح بعض باتوں میں کتاب اللہ پر عمل کیا جائے اورب عض میں کتاب اللہ کے بجائے اپنی مرضی پر عمل کیا جائے، جیسا کہ اہل کتاب کے متعلق فرمایا :(افتومنون ببعض الکتب وتکفرون ببعض) (البقر 1: 85)”پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو ؟“ ایک صورت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جو بات ثابت نہیں اسے دین بنا لیا جائے۔ اس یب دعت کہتے ہیں۔ سنت ہمیشہ ایک ہوگی، کیونکہ جس کی سنت ہے وہ ایک ہے، جبکہ بدعات کا شمار نہیں ہوگا، کیونکہ انہیں ایجاد کرنے والوں کا شمار نہیں ہوسکتا۔ پھر جب آدمی اصل سنت سے بہکتا ہے تو ایک بدعت پر نہیں رہتا بلکہ بدعات اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنا الگ فرقہ بنا لیتا ہے۔ اسے معلوم ہو بھی جائے کہ اس کی یا اس کے فرقے یا پیشوا کی فلاں بات کتاب اللہ یا حدیث رسول ﷺ کے خلفا ہے پھر بھی وہ اپنے دھڑے کی غلط بات پر اڑا رہے گا، حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا اور اپنی یا اپنے امام کی بات کو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے تابع کرنے کے بجائے آیات و احادیث کے معانی میں تحریف کر کے انھیں اپنے مطابق ثابت کرے گا۔ نام اس کا تاویل رکھے گا اور کہے گا کہ ہر وہ آیت یا حدیث جو ہمارے فرقے کے بزرگوں کے خلاف ہے اس کی تاویل ہوگی یا وہ منسوخ ہے۔ حالانکہ وہ آیت یا حدیث اس کے بزرگوں کے خلاف نہیں، کیونکہ وہ تو ان بزرگوں سے بہت پہلے نازل ہوچکی ہیں، بلکہ اس کے بزرگوں کی بات آیت یاح دیث کے خلاف ہے کہ انھیں اس کا علم نہیں ہوسکا، یا ان کے ذہن میں نہیں رہی۔ معاویہ بن ابوسفیان ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں کھڑے ہوئے اور فرمایا :(الا ان من قبلکم من اھل الکتاب افترقوا علی ثنتین وسبعین ملۃ ان ھذہ الملۃ ستفترق علی ثلاث وسبعین ثنتان وسبعون فی النار واحدۃ فی الجنۃ وھی الجماعۃ وانہ سیخرج من من امتی اقوا متجازی بھم تلک الاھواء کما یتجاری الکلب لصاحبہ لایتقی منہ عرق ولا مفصل الادخلہ) (ابوداؤد، السنۃ باب شرح السنۃ :3598)”سنو ! تم سے پہلے اہل کتاب کے لوگ بہتر (72) ملتوں میں جدا جدا ہوگئے اور یہ ملت تہتر (73) ملتوں میں جدا جدا ہوجائے گی، بہتر (72) آگ میں اور ایک جنت میں ہوگی اور وہی ”الجماعتہ“ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ میری امت میں کئی اقوام نکلیں ی جن میں یہ خواہشات (بدعات) اس طرح سرایت کر جائیں گی جیسے کتے کے ہلکاؤ کی بیماری اس کے مریض میں سریات کر جاتی ہے، نہ اس کی کوئی رگ باقی رہتی ہے اور نہ کوئی جوڑ مگر وہ اس میں داخل ہوجاتی ہے۔“ مزید دیکھیے سورة انعام کی آیت (159) :(ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعاً) کی تفسیر۔ (6) کبر علی المشرکین ماتدعوھم الیہ، وہ بات جس کی دعوت آپ مشرکین کو دیتے ہیں وہ ان پر بہت بھاری ہے، مراد اس سے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت ہے۔ کفار پر یہ دعوت اس قدر بھاری ہے کہ اس کا ماننا تو درکنار وہ اس کا سننا بھی بردشات نہیں کرتے، فرمایا :(واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لایومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ اذا ھم یستبشرون) (الزمر : 35)”اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں۔“ وہ اس مجلس سے اٹھ جاتے ہیں جس میں ایک معبود کی بات ہو، فرمایا :(اجعل الالھتہ الھا فاحدا ان ھذا لشی حجاب وانلطلق الملاء منھم ان امثوا واصبروا علی الھیتکم ان ھذا لشی یراد) (ص : 605) ”کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالاڈ بلاشبہ یہ یقیناً بہت عجیب بات ہے۔ اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور پانے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقیناً یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔“ مزید تفصیل کے لئے مذکورہ بالا آیات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ (7) اللہ یجتی الیہ من یشآء : ”یجتی“ ”حبی یحبی، جیابۃ“ (ض) سے باب افتعال ہے، جس کا معنی ”کھینچ کرلے جانا“ ہے، جیسا کہ فرمایا :(اولم نمکن لھم حرماً امنا یحییٰ الیہ ثمرت کل شیء) (القصص : 58)”اور کیا ہم نے انہیں ایک با امن حرم میں جگہ نہیں دی ؟ جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں۔“ باب افتعال کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوگیا ، یعنی مشرکین پر یہ دعوت جتنی بھی بھاری ہو وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ اسے پھیلنے اور غالب آنے سے روک سکیں گے۔ نہیں ایسا نہیں ہوگا، مشرکین کی ناگواری کے باوجود یہ دین حق تمام دینوں پر غالب آکر رہے گا، جیسا کہ فرمایا (ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون) (التربۃ : 33)”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔“ یہی لوگ جن پر ایک اللہ کی طرف دعوت بھاری گزر رہی ہے ان میں سے اور ان کی اولادوں میں سے اللہ جسے چاہے گا چن لے گا اور اپنی طرف کھینچ کرلے جائے گا اور واقعی ایسا ہی ہوا، ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اور بھائی حارث بن ہشام مسلمان ہوگئے، ابوسفیان خود اور اس کے بیٹے مسلمان ہوگئے، ولید کا بیٹا خالد مسلمان ہوگیا۔ غرض جو ضد پر اڑ گئے ان کا اللہ تعالیٰ نے صفایا کردیا اور جن کی طبیعت میں ضد اور عناد کے بجائے انابت اور حق کی طرف رجوع تھا وہ اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق سے حلقہ بگوش اسلام ہوگئے اور رسول اللہ ں کی زندگی ہی میں پورے جزیرہ عرب سے شرک اور مشرکین کا خاتمہ ہوگیا۔ (8) ویھدی الیہ من ینیب : اس میں اللہ تعالیٰ کے ہدایت دینے کا قانون بیان ہوا ہے کہ وہ اندھے کی لاٹھی کی طرح نہیں، بلکہ وہ انھی کو ہدایت دیتا ہے جن میں قبول حق کی استعداد اور خواہش ہوتی ہے اور اس بات کا علم بھی اسی کو ہے کہ انابت کس میں موجود ہے، جیسا کہ فرمایا :(انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء وھو اعلم بالمھتدین) (القصص : 56) ”بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔“
Top