Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 13
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ
شَرَعَ لَكُمْ : اس نے مقرر کیا تمہارے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا وَصّٰى بِهٖ : جس کی وصیت کی ساتھ اس کے نُوْحًا : نوح کو وَّالَّذِيْٓ : اور وہ چیز اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ : جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف وَمَا وَصَّيْنَا : اور جو وصیت کی ہم نے بِهٖٓ : ساتھ اس کے اِبْرٰهِيْمَ : ابراہیم کو وَمُوْسٰى : اور موسیٰ کو وَعِيْسٰٓى : اور عیسیٰ کو اَنْ : کہ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ : قائم کرو دین کو وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ : اور نہ تم اختلاف کرو اس میں۔ نہ تفرقہ ڈالو اس میں كَبُرَ : بڑا ہے۔ بھاری ہے عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ : مشرکوں پر مَا : جو تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ : تم بلاتے ہو ان کو طرف اس کے ۭ اَللّٰهُ : اللہ يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ : کھینچ لیتا ہے اپنی طرف مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہتا ہے وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ : اور ہدایت دیتا ہے۔ رہنمائی کرتا ہے، اپنی طرف مَنْ يُّنِيْبُ : جو رجوع کرتا ہے
اس نے تمہارے لئے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس (کے اختیار کرنے) کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد ﷺ ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا وہ یہ کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کا برگذیدہ کرلیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنی طرف راستہ دکھا دیتا ہے
اے امت محمدیہ تمہارے لیے وہی دین اسلام پسند کیا جس کا ہم نے نوح کو حکم دیا کہ وہ اللہ کی مخلوق کو اس کی طرف بلائیں اور خود بھی اسی پر ثابت قدم رہیں اور جس کو اے نبی کریم ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعے سے بھیجا ہے، یعنی قرآن کریم آپ کو بھی ہم نے دین اسلام کی طرف مخلوق کو بلانے اور خود بھی اسی پر قائم رہنے کا حکم دیا ہے اور جس دین اسلام کو ہم نے حضرت ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے لیے منتخب کیا تھا ان کو بھی اسی پر قائم رہنے اور اسی کی طرف لوگوں کو بلانے کا حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو حکم دیا تھا کہ متفق ہو کر اسی دین پر قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ مت ڈالنا۔ قرآن حکیم اور توحید کی طرف جو آپ لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو یہ بات بڑی ناگوار گزرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اپنے دین کی طرف جسے چاہے کھینچ لیتا ہے اور وہ ایسا شخص ہے جو اسلام ہی کی حالت میں پیدا ہوا اور اسی پر مرتا ہے اور ایسے ہی کافروں میں سے جو شخص اس کی طرف رجوع کرے اسے اپنے دین کی توفیق عطا کردیتا ہے۔
Top