Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 35
وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ
وَّيَعْلَمَ الَّذِيْنَ : اور جان لیں گے وہ لوگ يُجَادِلُوْنَ : جو جھگڑتے ہیں فِيْٓ اٰيٰتِنَا : ہماری آیات میں ۭ مَا : نہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنْ مَّحِيْصٍ : کوئی بچنے کی جگہ۔ جائے پناہ
اور وہ ان لوگوں کو جانتا ہے جو ہماری آیات میں جھگڑتے ہیں ان کے لیے کوئی بھی بچنے کی جگہ نہیں ہے۔
﴿وَّ يَعْلَمَ الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ فِيْۤ اٰيٰتِنَا 1ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِيْصٍ 0035﴾ (اور جب کشتی والوں کی ہلاکت ہونے لگے تو وہ لوگ جان لیں جو ہماری آیتوں میں جھگڑے کرتے ہیں کہ ان کے لیے بچاؤ کی کوئی جگہ نہیں ہے جو لوگ قرآن کو اللہ کی کتاب نہیں مانتے مشرک ہیں بتوں کی دہائی دیتے ہیں ان کے سامنے جب کشتیوں اور کشتیوں میں سوار ہونے والوں کی تباہی کا منظر سامنے آجائے تو وہ سمجھ لیں کہ اللہ کے عذاب سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں اور غیر اللہ کو پکارنے کا کوئی نفع نہیں۔ قال البغوی فی معالم التنزیل ﴿وَ يَعْلَمَ﴾ قرأ اھل المدینة والشام ﴿وَیَعْلَمُ﴾ برفع المیم علی الاستئناف کقولہ عزوجل فی سورة برأة ﴿وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ﴾ وَقرَأ الاٰخرون بالنصب علی الصرف والجزم اذا صرف عنہ معطوفہ نصب، وھو کقولہ تعالیٰ ﴿وَ يَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ﴾ صرف من حال اجزم الی النصب استخفافًا وکراھیة لتوالی الجزم۔ (علامہ بغوی ؓ نے معالم التنزیل میں کہا ہے ﴿وَ يَعْلَمَ﴾ کو مدینہ اور شام کے قراء نے ﴿وَیَعْلَمُ﴾ میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے یہ نیا جملہ ہے جیسا کہ سورة براءۃ میں ہے ﴿وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ ﴾ اور دوسروں نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے صرف کی بنیاد پر کیونکہ جب جزم سے اس کا معطوف پھیرا جاتا ہے تو نصب دی جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَ يَعْلَمَ الصّٰبِرِيْنَ﴾ ہے۔ جزم سے نصب کی طرف اس لیے پھیرا گیا ہے تاکہ تخفیف بھی ہوجائے اور مسلسل دو جز میں بھی نہ آئیں۔
Top