Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 35
وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ
وَّيَعْلَمَ الَّذِيْنَ : اور جان لیں گے وہ لوگ يُجَادِلُوْنَ : جو جھگڑتے ہیں فِيْٓ اٰيٰتِنَا : ہماری آیات میں ۭ مَا : نہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنْ مَّحِيْصٍ : کوئی بچنے کی جگہ۔ جائے پناہ
اور جو لوگ ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ جان لیں کہ (اللہ کی گرفت سے) ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے
جب وقت آجاتا ہے تو بڑے بڑے منکروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں 35 ؎ انسان باتیں بناتا رہتا ہے اور اپنی کامیابیوں کے تانے جوڑتا رہتا ہے اور اپنی چلتی گاڑی کے نشہ میں مگن رہتے ہوئے جو اس کے منہ میں آتا ہے کہہ دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ کا وقت آجاتا ہے تو وہی انسان جو اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کی ذات میں باتیں بنا رہا ہوتا ہے منہ بسورنے اور ہاتھ جوڑنے لگ جاتا ہے۔ قرآن کریم نے یہ باتیں تفہیم کرانے کے لیے ہم کو بہت مثالیں دی ہیں اور ہر ممکن سمجھانے کی کوشش کی ہے چناچہ ایک دو مثالیں سورة الکہف میں بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہیں کہ اکڑنے والوں اور اترانے والوں کا جب نشہ اللہ تعالیٰ اتارتا ہے تو پھر کیا سے کیا ہوجاتا ہے۔ تفصیل کے لئے عزوۃ الوثقی جلد پنجم سورة الکہف کی آیات 32 تا 48 کا مطالعہ کریں اور اسی طرح کی مثالیں آگے سورة القلم میں بھی آرہی ہیں۔
Top