Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
اور تم کو جو بھی چیز دی گئی ہے سو وہ دنیا والی زندگی کا سامان ہے، اور جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں
جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے اہل ایمان اور اہل توکل کے لیے بہتر ہے ان آیات میں دنیا کے بےثباتی بتائی ہے اور آخرت کے اجور اور ثمرات کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ بہتر ہیں اور زیادہ باقی رہنے والے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ یہ اجور وثمرات اہل ایمان کو ملیں گے پھر اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمائے (1) یہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں (2) کبیرہ گناہوں سے اور فحش باتوں اور فحش کاموں سے پرہیز کرتے ہیں (3) اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں (4) اور یہ لوگ اپنے رب کا حکم مانتے ہیں یعنی دل و جان سے قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں (5) اور نماز قائم کرتے ہیں اور ان کے امور آپس میں باہمی مشورہ سے طے ہوتے ہیں (6) انہیں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں (7) اور جب ان پر کوئی ظلم ہوتا ہے تو وہ بدلہ لے لیتے ہیں (ظلم نہیں کرتے جتنا ہوا اسی قدر بدلہ لیتے ہیں) یہ ایسے امور ہیں جن کا پابند ہونا اور زندگی بھر نباہتے چلے جانا اہم کام ہے ان میں توکل کرنا بھی اور گناہوں اور فحش کاموں سے بچنا بھی، اور غصہ آجائے تو معاف کرنا بھی اور مشورے سے کاموں کو انجام دینا بھی ہے صحیح طریقے پر نماز ادا کرنا ﴿وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ 1۪﴾ اور مالی فرائض اور واجبات ادا کرنا ﴿وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَۚ0038﴾ میں بیان فرما دیا ایسے جامع الاوصاف اہل ایمان کے لیے آخرت کے اجر وثواب کا خیر ہونا اور باقی ہونا ظاہر ہے۔ دنیا کے بارے میں یہ جو فرمایا کہ تمہیں جو کوئی چیز دی گئی ہے وہ دنیا کی زندگی میں کام آنے والی ہے اس میں دو باتوں کی طرف اشارہ فرمایا اول یہ کہ جو لوگ دنیا میں جیتے اور بستے ہیں ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ہیں دنیا سے فائدہ حاصل کرنے میں مومن یا کافر اور نیک و بد کی کوئی تخصیص نہیں سب اس سے متمتع اور مستفید ہوتے ہیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ دنیا میں جسے جو کچھ ملا ہو وہ دنیا کی حد تک ہے جب دنیا سے چلے جائیں گے سب یہیں دھرا رہ جائے گا ہاں جو کچھ اللہ کے لیے خرچ کیا اس کا ثواب وہاں مل جائے گا جسے ﴿وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَۚ0038﴾ میں بتادیا۔
Top