Anwar-ul-Bayan - Aal-i-Imraan : 133
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ
مَآ اَفَآءَ اللّٰهُ : جو دلوادے اللہ عَلٰي رَسُوْلِهٖ : اپنے رسول کو مِنْ : سے اَهْلِ الْقُرٰى : بستی والوں فَلِلّٰهِ : تو اللہ کے لئے وَ للرَّسُوْلِ : اور رسول کے لئے وَ لِذِي الْقُرْبٰى : اور قرابت داروں کیلئے وَالْيَتٰمٰى : اور یتیموں وَالْمَسٰكِيْنِ : اور مسکینوں وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ : اور مسافروں كَيْ لَا يَكُوْنَ : تاکہ نہ رہے دُوْلَةًۢ : ہاتھوں ہاتھ لینا (گردش) بَيْنَ : درمیان الْاَغْنِيَآءِ : مال داروں مِنْكُمْ ۭ : تم میں سے تمہارے وَمَآ اٰتٰىكُمُ : اور جو تمہیں عطا فرمائے الرَّسُوْلُ : رسول فَخُذُوْهُ ۤ : تو وہ لے لو وَمَا نَهٰىكُمْ : اور جس سے تمہیں منع کرے عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ : اس سے تم باز رہو وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ : اور تم ڈرو اللہ سے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ شَدِيْدُ : سخت الْعِقَابِ : سزادینے والا
اللہ نے جو کچھ اپنے رسول کو بستیوں کے رہنے والوں سے بطور فئی مال دلوا دیا سو وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ یہ مال ان لوگوں کے درمیان دولت بن کر نہ رہ جائے جو مال دار ہیں اور رسول جو کچھ عطا کریں وہ لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اس کے بعد اموال فئی کے مصارف بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿ مَاۤ اَفَآء اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى ﴾ (الایۃ) اللہ نے جو کچھ اپنے رسولوں کو بستیوں کے رہنے والوں سے بطور فئی دلوا دیا سو وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے۔ اموال بنی نصیر کے علاوہ بعض دیگر بستیاں بھی بطور مال فئی رسول اللہ ﷺ کے قبضہ میں آگئی تھیں جن میں سے فدک زیادہ مشہور ہے۔ خیبر کے نصف حصہ کا اور بنی عرینہ کے اموال کا ذکر بھی مفسرین کرام نے لکھا ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں اموال فئی کے مصارف بتائے ہیں اول فَلِلّٰہِ فرمایا بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کا ذکر تبرک کے لیے ہے جیسا کہ خمس کے بارے میں ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ ﴾ فرمایا ہے اور بعض حضرات نے اس کی یوں تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ جیسے چاہے ان کو خرچ کرنے کا حکم دے اس میں کسی کو اپنی طرف سے کچھ تجویز کرنے یا کسی کا حصہ بتانے اور طے کرنے کا کوئی حق نہیں، پھر فرمایا : وللرسول مال فئی اللہ کے رسول کے لیے ہے یعنی ان اموال کا اختیار اللہ پاک کی طرف سے آپ کو دے دیا گیا ہے اور آپ کو ان کے مصارف بتا دیئے ہیں (مال غنیمت کی طرح یہ مال صرف نہیں کیے جائیں گے اور نہ ان میں سے خمس نکالا جائے گا) ۔ (علی ما ذھب الیہ الامام ابوحنیفہ ؓ مفسرین نے لکھا ہے کہ مال فئی پر رسول اللہ ﷺ کو مالکانہ اختیار حاصل تھا پھر ان کے جو مصارف بیان فرمائے یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے مالکوں کو اموال کے بارے میں احکام دیے گئے ہیں کہ فلاں فلاں جگہ پر خرچ کرو۔ تیسرا مصرف بتاتے ہوئے ﴿ وَ لِذِي الْقُرْبٰى ﴾ ارشاد فرمایا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کے اہل قرابت مراد ہیں، ان کے بعد چوتھا اور پانچواں اور چھٹا مصرف بتاتے ہوئے ﴿ وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ ﴾ فرمایا، یعنی اموال فئی یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر بھی خرچ کیے جائیں۔ حسب فرمان باری تعالیٰ شانہ اموال فئی کو آپ اپنے ذوی القربی پر اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافرین پر اپنی صوابدید سے خرچ کردیتے تھے اسی سلسلہ میں یہ بھی تھا کہ آپ مال فئی میں سے اپنے گھر والوں کے لیے ایک سال کا خرچہ نکال لیتے تھے اور جو مال بچ جاتا تھا اسے مسلمانوں کی عام ضروریات میں مثلاً جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے لیے خرچ فرما دیتے تھے۔ گو آپ کو ان اموال کا مالکانہ اختیار حاصل تھا لیکن چونکہ آپ نے وفات سے پہلے یہ فرما دیا تھا کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ (کہ ہماری میراث مالی جاری نہ ہوگی ہم جو کچھ چھوڑیں گے وہ صدقہ ہوگا) (صحیح بخاری ص 436 ج 1) اس لیے ان اموال میں میراث جاری نہیں کی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرات خلفاء راشدین ؓ نے بھی ان اموال کو انہیں مصارف میں خرچ کیا جن میں رسول اللہ ﷺ خرچ فرماتے تھے امام المسلمین کو جب اموال فئی حاصل ہوجائیں تو اسے مالکانہ اختیار حاصل نہیں ہوں گے۔ بلکہ حاکمانہ اختیار حاصل ہوں گے اور وہ مذکورہ بالا مصارف میں اور مسلمانوں کی عام ضروریات میں مثلاً جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے لیے پل تیار کرنے، سڑکیں بنانے، مجاہدین اور ان کے گھر والوں کی حاجتیں پوری کرنے اور علماء کرام پر خرچ کرنے اور قضاۃ اور عمال کی ضرورتیں پوری کرنے میں خرچ کرے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ذوی القربیٰ سے بنو ہاشم اور بنوعبدالمطلب مراد ہیں پھر لکھا ہے کہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد (رح) کا مذہب یہ ہے کہ ان حضرات کو اموال فئی میں سے حصہ دیا جائے گا۔ غنی ہوں یا فقیر ہوں اور ﴿ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ﴾ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا اور حضرت امام مالک (رح) کا مذہب یہ نقل کیا ہے کہ امام المسلمین جس طرح چاہے ان حضرات پر خرچ کرے اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بعض کو دے بعض کو نہ دے۔ پھر حنفیہ کا مذہب لکھا ہے کہ حضرات ذوی القربیٰ کا حصہ اموال فئی میں رسول اللہ ﷺ کے بعد باقی نہیں رہا کیونکہ حضرات خلفاء راشدین نے ان کے لیے علیحدہ حصہ نہیں نکالا ہاں ان حضرات میں جو یتامیٰ اور مساکین و ابن السبیل ہوں گے ان کو ان اوصاف ثلاثہ کے اعتبار سے اموال فئی میں سے دیا جائے گا اور دوسرے مستحقین پر ان کو مقدم کیا جائے گا، پھر یتامی کے بارے میں لکھا ہے کہ اموال فئی میں سے ان یتامیٰ پر خرچ کیا جائے گا، جو مسلمان ہیں اور فقیر یا مسکین ہیں۔ ﴿كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ اموال فئی کے مصارف بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ﴿كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ یعنی اموال فئی کے مصارف واضح طور پر بیان فرما دیے گئے تاکہ یہ اموال تمہارے مال داروں کے درمیان دولت بن کر نہ رہ جائیں (لفظ دولت دال کے زبر کے ساتھ اور دولہ دال کے پیش کے ساتھ دونوں طرح عربی زبان کا لغت ہے) مال کو دولت کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں تداول ایدی ہوتا رہتا ہے اور ایک سے ہو کر دوسرے کے پاس جاتا رہتا ہے۔ البتہ اردو کا محاورہ یہ ہے کہ جس کے پاس زیادہ مال ہو اسے دولت مند کہتے ہیں۔ ان الفاظ میں تنبیہ فرما دی کہ اموال فئی کی تقسیم جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دی ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ یہ اموال مالداروں کے ہی ہاتھوں میں آ کر نہ رہ جائیں۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں ہوتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے کہ عامۃ الناس کی امداد کے لیے حوادث و مصائب کے مواقع میں بعض مالداروں اور حکومتوں کی طرف سے جو مال ملتا ہے اس میں سے تھوڑا سا اہل حاجات پر خرچ کر کے منتظمین ہی مل ملا کر کھا جاتے ہیں جو پہلے سے مالدار ہوتے ہیں، چونکہ تقویٰ نہیں دنیا داری غالب ہے اور مال کی محبت دلوں میں جگہ پکڑے ہوئے ہے اس لیے ایسے مظالم ہوتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے پھر فرمایا ﴿وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ 1ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ﴾ (اور رسول اللہ ﷺ جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ) ۔ اس میں یہ بتادیا کہ ہر امر ونہی کا قرآن مجید میں ہونا ضروری نہیں ہے قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام بیان فرمائے ہیں اور بہت سے احکام اپنے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ بتائے ہیں ان میں آنحضرت ﷺ کے اعمال بھی ہیں اور اموال بھی اور تقریرات بھی یعنی کسی نے آپ کے سامنے کوئی عمل کیا اور آپ نے منع نہیں فرمایا تو یہ بھی حجت شرعیہ ہے سورة اعراف میں آپ کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے ﴿يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ﴾ (یعنی آپ ان کو اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برائیوں سے روکتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ان کے لئے خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں) ۔ منکرین حدیث کی تردید : آج کل بہت سے ایسے جاہل لیڈر پیدا ہوگئے ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ حدیث شریف حجت شرعیہ نہیں ہے اور اسی لئے بہت سی اسلامی چیزوں کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت بڑی گمراہی ہے اور کفر ہے یہ لوگ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قرآن کے ماننے والے ہیں اگر قرآن کے ماننے والے ہوتے تو یہ کیوں کہتے کہ حدیث حجت شرعیہ نہیں ہے۔ قرآن میں تو ﴿ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ اور مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ اور وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ﴾ فرمایا ہے۔ درحقیت ایسے لوگوں کا مقصد اسلام میں تحریف کرنا ہے قرآن کو ماننا نہیں ہے، ان لوگوں کو دشمنان اسلام پیسے دے کر اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں کفر پھیلائیں (العیاذ باللہ) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ( لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمصات لہ والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ) ” یعنی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور ان عورتوں پر جو (ابرو یعنی بھنوؤں کے بال) چننے والی ہیں (تاکہ بھنویں باریک ہوجائیں) اور اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو حسن کے لئے دانتوں کے درمیان کشادگی کرتی ہیں جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والی ہیں۔ “ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ بات سن کر ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھتیجے ہیں ؟ فرمایا کہ میں ان لوگوں پر کیوں لعنت نہ بھیجوں جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی اور جن پر اللہ کی کتاب میں لعنت آئی ہے، وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے سارا قرآن پڑھ لیا مجھے تو یہ بات کہیں نہ ملی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اگر تو نے قرآن پڑھا ہوتا تو تجھے ضرور یہ بات مل جاتی کیا تو نے یہ نہیں پڑھا۔ ﴿ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ 1ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا 1ۚ ﴾ (اور رسول تم کو جو (ہدایت) دے اسے قبول کرلو اور جس چیز سے روکے اس سے رک جاؤ) ۔ یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی کہ ہاں یہ قرآن میں ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے جن کاموں کے کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے لہٰذا قرآن کی رو سے بھی ان کاموں کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن باتوں کا حکم دیں ان پر عمل کرو اور جن چیزوں سے روکیں ان سے رک جاؤ۔ (صحیح بخاری صفحہ 725: ج 2) یہ مضمون اموال فئی کی تقسیم بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان اللہ تعالیٰ کے فرمان سے جدا نہیں ہے تقسیم فئی کا جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے اس میں آپ جس طرح تصرف فرمائیں وہ تصرف درست ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی رضاء کے موافق ہے۔ آخر میں فرمایا ﴿ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِۘ007﴾ (اور اللہ سے ڈرو بلاشبہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے) ۔
Top