Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Anwar-ul-Bayan - Aal-i-Imraan : 133
مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ
مَآ اَفَآءَ اللّٰهُ
: جو دلوادے اللہ
عَلٰي رَسُوْلِهٖ
: اپنے رسول کو
مِنْ
: سے
اَهْلِ الْقُرٰى
: بستی والوں
فَلِلّٰهِ
: تو اللہ کے لئے
وَ للرَّسُوْلِ
: اور رسول کے لئے
وَ لِذِي الْقُرْبٰى
: اور قرابت داروں کیلئے
وَالْيَتٰمٰى
: اور یتیموں
وَالْمَسٰكِيْنِ
: اور مسکینوں
وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ
: اور مسافروں
كَيْ لَا يَكُوْنَ
: تاکہ نہ رہے
دُوْلَةًۢ
: ہاتھوں ہاتھ لینا (گردش)
بَيْنَ
: درمیان
الْاَغْنِيَآءِ
: مال داروں
مِنْكُمْ ۭ
: تم میں سے تمہارے
وَمَآ اٰتٰىكُمُ
: اور جو تمہیں عطا فرمائے
الرَّسُوْلُ
: رسول
فَخُذُوْهُ ۤ
: تو وہ لے لو
وَمَا نَهٰىكُمْ
: اور جس سے تمہیں منع کرے
عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ
: اس سے تم باز رہو
وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ
: اور تم ڈرو اللہ سے
اِنَّ اللّٰهَ
: بیشک اللہ
شَدِيْدُ
: سخت
الْعِقَابِ
: سزادینے والا
اللہ نے جو کچھ اپنے رسول کو بستیوں کے رہنے والوں سے بطور فئی مال دلوا دیا سو وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ یہ مال ان لوگوں کے درمیان دولت بن کر نہ رہ جائے جو مال دار ہیں اور رسول جو کچھ عطا کریں وہ لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اس کے بعد اموال فئی کے مصارف بیان فرمائے ارشاد فرمایا ﴿ مَاۤ اَفَآء اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى ﴾ (الایۃ) اللہ نے جو کچھ اپنے رسولوں کو بستیوں کے رہنے والوں سے بطور فئی دلوا دیا سو وہ اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے اور قرابت داروں کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے۔ اموال بنی نصیر کے علاوہ بعض دیگر بستیاں بھی بطور مال فئی رسول اللہ ﷺ کے قبضہ میں آگئی تھیں جن میں سے فدک زیادہ مشہور ہے۔ خیبر کے نصف حصہ کا اور بنی عرینہ کے اموال کا ذکر بھی مفسرین کرام نے لکھا ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں اموال فئی کے مصارف بتائے ہیں اول فَلِلّٰہِ فرمایا بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہ کا ذکر تبرک کے لیے ہے جیسا کہ خمس کے بارے میں ﴿ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ ﴾ فرمایا ہے اور بعض حضرات نے اس کی یوں تفسیر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ جیسے چاہے ان کو خرچ کرنے کا حکم دے اس میں کسی کو اپنی طرف سے کچھ تجویز کرنے یا کسی کا حصہ بتانے اور طے کرنے کا کوئی حق نہیں، پھر فرمایا : وللرسول مال فئی اللہ کے رسول کے لیے ہے یعنی ان اموال کا اختیار اللہ پاک کی طرف سے آپ کو دے دیا گیا ہے اور آپ کو ان کے مصارف بتا دیئے ہیں (مال غنیمت کی طرح یہ مال صرف نہیں کیے جائیں گے اور نہ ان میں سے خمس نکالا جائے گا) ۔ (علی ما ذھب الیہ الامام ابوحنیفہ ؓ مفسرین نے لکھا ہے کہ مال فئی پر رسول اللہ ﷺ کو مالکانہ اختیار حاصل تھا پھر ان کے جو مصارف بیان فرمائے یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے مالکوں کو اموال کے بارے میں احکام دیے گئے ہیں کہ فلاں فلاں جگہ پر خرچ کرو۔ تیسرا مصرف بتاتے ہوئے ﴿ وَ لِذِي الْقُرْبٰى ﴾ ارشاد فرمایا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کے اہل قرابت مراد ہیں، ان کے بعد چوتھا اور پانچواں اور چھٹا مصرف بتاتے ہوئے ﴿ وَ الْيَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ ﴾ فرمایا، یعنی اموال فئی یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر بھی خرچ کیے جائیں۔ حسب فرمان باری تعالیٰ شانہ اموال فئی کو آپ اپنے ذوی القربی پر اور یتامیٰ اور مساکین اور مسافرین پر اپنی صوابدید سے خرچ کردیتے تھے اسی سلسلہ میں یہ بھی تھا کہ آپ مال فئی میں سے اپنے گھر والوں کے لیے ایک سال کا خرچہ نکال لیتے تھے اور جو مال بچ جاتا تھا اسے مسلمانوں کی عام ضروریات میں مثلاً جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے لیے خرچ فرما دیتے تھے۔ گو آپ کو ان اموال کا مالکانہ اختیار حاصل تھا لیکن چونکہ آپ نے وفات سے پہلے یہ فرما دیا تھا کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ (کہ ہماری میراث مالی جاری نہ ہوگی ہم جو کچھ چھوڑیں گے وہ صدقہ ہوگا) (صحیح بخاری ص 436 ج 1) اس لیے ان اموال میں میراث جاری نہیں کی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرات خلفاء راشدین ؓ نے بھی ان اموال کو انہیں مصارف میں خرچ کیا جن میں رسول اللہ ﷺ خرچ فرماتے تھے امام المسلمین کو جب اموال فئی حاصل ہوجائیں تو اسے مالکانہ اختیار حاصل نہیں ہوں گے۔ بلکہ حاکمانہ اختیار حاصل ہوں گے اور وہ مذکورہ بالا مصارف میں اور مسلمانوں کی عام ضروریات میں مثلاً جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے لیے پل تیار کرنے، سڑکیں بنانے، مجاہدین اور ان کے گھر والوں کی حاجتیں پوری کرنے اور علماء کرام پر خرچ کرنے اور قضاۃ اور عمال کی ضرورتیں پوری کرنے میں خرچ کرے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ذوی القربیٰ سے بنو ہاشم اور بنوعبدالمطلب مراد ہیں پھر لکھا ہے کہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد (رح) کا مذہب یہ ہے کہ ان حضرات کو اموال فئی میں سے حصہ دیا جائے گا۔ غنی ہوں یا فقیر ہوں اور ﴿ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ﴾ کے مطابق تقسیم کیا جائے گا اور حضرت امام مالک (رح) کا مذہب یہ نقل کیا ہے کہ امام المسلمین جس طرح چاہے ان حضرات پر خرچ کرے اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بعض کو دے بعض کو نہ دے۔ پھر حنفیہ کا مذہب لکھا ہے کہ حضرات ذوی القربیٰ کا حصہ اموال فئی میں رسول اللہ ﷺ کے بعد باقی نہیں رہا کیونکہ حضرات خلفاء راشدین نے ان کے لیے علیحدہ حصہ نہیں نکالا ہاں ان حضرات میں جو یتامیٰ اور مساکین و ابن السبیل ہوں گے ان کو ان اوصاف ثلاثہ کے اعتبار سے اموال فئی میں سے دیا جائے گا اور دوسرے مستحقین پر ان کو مقدم کیا جائے گا، پھر یتامی کے بارے میں لکھا ہے کہ اموال فئی میں سے ان یتامیٰ پر خرچ کیا جائے گا، جو مسلمان ہیں اور فقیر یا مسکین ہیں۔ ﴿كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ اموال فئی کے مصارف بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ﴿كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَآءِ مِنْكُمْ ﴾ یعنی اموال فئی کے مصارف واضح طور پر بیان فرما دیے گئے تاکہ یہ اموال تمہارے مال داروں کے درمیان دولت بن کر نہ رہ جائیں (لفظ دولت دال کے زبر کے ساتھ اور دولہ دال کے پیش کے ساتھ دونوں طرح عربی زبان کا لغت ہے) مال کو دولت کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں تداول ایدی ہوتا رہتا ہے اور ایک سے ہو کر دوسرے کے پاس جاتا رہتا ہے۔ البتہ اردو کا محاورہ یہ ہے کہ جس کے پاس زیادہ مال ہو اسے دولت مند کہتے ہیں۔ ان الفاظ میں تنبیہ فرما دی کہ اموال فئی کی تقسیم جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دی ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ یہ اموال مالداروں کے ہی ہاتھوں میں آ کر نہ رہ جائیں۔ جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں ہوتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہے کہ عامۃ الناس کی امداد کے لیے حوادث و مصائب کے مواقع میں بعض مالداروں اور حکومتوں کی طرف سے جو مال ملتا ہے اس میں سے تھوڑا سا اہل حاجات پر خرچ کر کے منتظمین ہی مل ملا کر کھا جاتے ہیں جو پہلے سے مالدار ہوتے ہیں، چونکہ تقویٰ نہیں دنیا داری غالب ہے اور مال کی محبت دلوں میں جگہ پکڑے ہوئے ہے اس لیے ایسے مظالم ہوتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے پھر فرمایا ﴿وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ 1ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ﴾ (اور رسول اللہ ﷺ جو تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ) ۔ اس میں یہ بتادیا کہ ہر امر ونہی کا قرآن مجید میں ہونا ضروری نہیں ہے قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام بیان فرمائے ہیں اور بہت سے احکام اپنے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ بتائے ہیں ان میں آنحضرت ﷺ کے اعمال بھی ہیں اور اموال بھی اور تقریرات بھی یعنی کسی نے آپ کے سامنے کوئی عمل کیا اور آپ نے منع نہیں فرمایا تو یہ بھی حجت شرعیہ ہے سورة اعراف میں آپ کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے ﴿يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ﴾ (یعنی آپ ان کو اچھے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور انہیں برائیوں سے روکتے ہیں اور ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ان کے لئے خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں) ۔ منکرین حدیث کی تردید : آج کل بہت سے ایسے جاہل لیڈر پیدا ہوگئے ہیں جو یوں کہتے ہیں کہ حدیث شریف حجت شرعیہ نہیں ہے اور اسی لئے بہت سی اسلامی چیزوں کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت بڑی گمراہی ہے اور کفر ہے یہ لوگ جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم قرآن کے ماننے والے ہیں اگر قرآن کے ماننے والے ہوتے تو یہ کیوں کہتے کہ حدیث حجت شرعیہ نہیں ہے۔ قرآن میں تو ﴿ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ اور مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰهَ اور وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ﴾ فرمایا ہے۔ درحقیت ایسے لوگوں کا مقصد اسلام میں تحریف کرنا ہے قرآن کو ماننا نہیں ہے، ان لوگوں کو دشمنان اسلام پیسے دے کر اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں کفر پھیلائیں (العیاذ باللہ) صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : ( لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والمتنمصات لہ والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ) ” یعنی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور ان عورتوں پر جو (ابرو یعنی بھنوؤں کے بال) چننے والی ہیں (تاکہ بھنویں باریک ہوجائیں) اور اللہ کی لعنت ہو ان عورتوں پر جو حسن کے لئے دانتوں کے درمیان کشادگی کرتی ہیں جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والی ہیں۔ “ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ بات سن کر ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھتیجے ہیں ؟ فرمایا کہ میں ان لوگوں پر کیوں لعنت نہ بھیجوں جن پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی اور جن پر اللہ کی کتاب میں لعنت آئی ہے، وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے سارا قرآن پڑھ لیا مجھے تو یہ بات کہیں نہ ملی، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اگر تو نے قرآن پڑھا ہوتا تو تجھے ضرور یہ بات مل جاتی کیا تو نے یہ نہیں پڑھا۔ ﴿ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ 1ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا 1ۚ ﴾ (اور رسول تم کو جو (ہدایت) دے اسے قبول کرلو اور جس چیز سے روکے اس سے رک جاؤ) ۔ یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی کہ ہاں یہ قرآن میں ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے جن کاموں کے کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے ان کاموں سے منع فرمایا ہے لہٰذا قرآن کی رو سے بھی ان کاموں کی ممانعت ثابت ہوئی کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن باتوں کا حکم دیں ان پر عمل کرو اور جن چیزوں سے روکیں ان سے رک جاؤ۔ (صحیح بخاری صفحہ 725: ج 2) یہ مضمون اموال فئی کی تقسیم بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان اللہ تعالیٰ کے فرمان سے جدا نہیں ہے تقسیم فئی کا جو کام آپ کے سپرد کیا گیا ہے اس میں آپ جس طرح تصرف فرمائیں وہ تصرف درست ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی رضاء کے موافق ہے۔ آخر میں فرمایا ﴿ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِۘ007﴾ (اور اللہ سے ڈرو بلاشبہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے) ۔
Top