Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 114
قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قٰلَ : فرمائے گا اِنْ لَّبِثْتُمْ : نہیں تم رہے اِلَّا : مگر (صرف) قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ) لَّوْ : کاش اَنَّكُمْ : کہ تم كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہوئے
(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے کاش تم جانتے ہوتے
(23:114) ان البثتم میں ان نافیہ ہے۔ ای ما لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ لو۔ اگر شرطیہ ہے تو اس کا جواب محذوف ہے۔ یعنی اگر تم دنیاوی زندگی کی مدت قلیل کو جانتے ہوتے اور اخروی زندگی کی نہ ختم ہونے والی مدت کو بھی جانتے ہوتے تو تم دنیاوی زندگی کو گناہ وعصیان میں نہ گذارتے اور آج ذلیل و خوار نہ ہوتے۔ اور جہنم کے عذاب میں بھی ہمیشہ کے لئے مبتلا نہ ہوتے۔ اور اگر لوحرف تمنا ہے تو جواب کی ضرورت نہیں صرف ان کے انجام پر حسرت کا اظہار ہے۔ یعنی کاش تم دنیاوی زندگی کی قلت زمانی کو جانتے ۔ اور برے کاموں سے بچے رہتے۔
Top