Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 114
قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قٰلَ : فرمائے گا اِنْ لَّبِثْتُمْ : نہیں تم رہے اِلَّا : مگر (صرف) قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ) لَّوْ : کاش اَنَّكُمْ : کہ تم كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہوئے
ان سے کہا جائے گا ، ہاں ! تمہارا زمین میں رہنا اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بہت ہی تھوڑے زمانہ کا رہنا ، کاش ! تم نے یہ بات جانی ہوتی
بلاشبہ تم تھوڑی ہی مدت رہے لیکن کاش کہ یہ بات تم اس وقت سمجھ جاتے : 114۔ ان سے کہا جائے گا کہ بلاشبہ تم دنیا میں رہے تو بہت کم لیکن وہ کمی اس آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلہ میں بہت کم کہی جاسکتی ہے ورنہ تم غور کرو کہ اس دنیا مین تم پیدا ہوئے اس میں تمہارا بچپن گزرا ‘ تم جوان ہوئے ‘ تم نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام کی مخالفت میں کمر کسی اور اللہ کے دین کے ماننے والوں کو طرح طرح سے تنگ گیا ‘ ان کا مذاق اڑایا ‘ ان سے استہزا کیا ۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات سے مستفید ہوئے اور اس کی ذات کا انکار بھی کیا اور اس طرح کرتے کرتے جب وقت ہاتھ سے نکل گیا تو اب تم کو وقت گزر جانے کے بعد پچھتاوا ہوا ایسی سمجھ کے سر میں جوتا مارو جو کام ہو چکنے کے بعد آئے ، کاش کہ یہ بات تم اس وقت کہتے جب اس کے کہنے کا وقت تھا ، یہ مضمون پیچھے سورة طہ کی آیات 102 ‘ تا 104 میں گزر چکا تفصیل وہیں سے ملاحظہ کریں ۔
Top