Tafseer-e-Mazhari - Al-Muminoon : 114
قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قٰلَ : فرمائے گا اِنْ لَّبِثْتُمْ : نہیں تم رہے اِلَّا : مگر (صرف) قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ) لَّوْ : کاش اَنَّكُمْ : کہ تم كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہوئے
(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے۔ کاش تم جانتے ہوتے
قل ان لبثتم الا قلیلاً لو انکم کنتم تعلمون۔ ارشاد ہوگا تم (دنیا میں) تھوڑے ہی وقت رہے لیکن کیا خوب ہوتا کہ (یہ بات دنیا میں) تم سمجھتے ہوتے۔ قَلِیْلاً یعنی پیش آنے والے عذاب کے مقابلہ میں تم تھوڑے وقت ہی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخرت میں یہ دنیا ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص اپنی انگلی (ذرا) سمندر میں ڈال (کر نکال لے) پھر دیکھے کہ انگلی (سمندر کے پانی سے) کیا لے کر لوٹی۔ رواہ احمد و ابن ماجۃ و مسلم عن المستورد۔ لَوْ اَنَّکُمْ لو تمنائی ہے جس کے اندر توبیخ و ملامت بھی ہے۔ یعنی کاش تم دنیا میں جان لیتے کہ وہاں تمہاری مدت قیام تھوڑی ہے پھر اس زندگی کو کھیل کود۔ تکمیل خواہشات اور نفس پرستی میں نہ کھو دیتے اور آج کے دن کی پیشی کو نہ بھولتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا میں ایسے رہو جیسے تم مسافر یا راہ گیر ہو۔ رواہ البخاری عن ابن عمر ‘ امام ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں حدیث مذکورہ کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو قبروں والوں میں شمار کرو۔
Top