Tafheem-ul-Quran - Al-Muminoon : 114
قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قٰلَ : فرمائے گا اِنْ لَّبِثْتُمْ : نہیں تم رہے اِلَّا : مگر (صرف) قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ) لَّوْ : کاش اَنَّكُمْ : کہ تم كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہوئے
اِرشاد ہو گا”تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہونا۔ کاش تم نے یہ اُس وقت جانا ہوتا۔ 101
سورة الْمُؤْمِنُوْن 101 یعنی دنیا میں ہمارے نبی تم کو بتاتے رہے کہ یہ دنیا کی زندگی محض امتحان کی چند گنی چنی ساعتیں ہیں، ان ہی کو اصل زندگی اور بس ایک ہی زندگی نہ سمجھ بیٹھو۔ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ یہاں کے وقتی فائدوں اور عارضی لذتوں کی خاطر وہ کام نہ کرو جو آخرت کی ابدی زندگی میں تمہارے مستقبل کو برباد کردینے والے ہوں۔ مگر اس وقت تم نے ان کی بات سنی ان سنی کردی۔ تم اس عالم آخرت کا انکار کرتے رہے۔ تم نے زندگی بعد موت کو ایک من گھڑت افسانہ سمجھا۔ تم اپنے اس خیال پر بضد رہے کہ جینا اور مرنا جو کچھ ہے بس اسی دنیا میں ہے، اور جو کچھ مزے لوٹنے ہیں یہیں لوٹ لینے چاہئیں۔ اب پچھتانے سے کیا ہوتا ہے۔ ہوش آنے کا وقت تو وہ تھا جب تم دنیا کی چند روزہ زندگی کے لطف پر یہاں کی ابدی زندگی کے فائدوں کو قربان کر رہے تھے۔
Top