Asrar-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے
(23:115) افحسبتم۔ میں ہمزہ استفہام کے لئے ہے حسبتم ماضی جمع مذکر حاضر حسبان مصدر۔ کیا تم نے گمان کیا۔ کیا تم نے جانا عبثا۔ خلقنکم سے حال ہے بمعنی عابثین۔ بےمقصد۔ بےفائدہ۔ یا یہ خلقنکم کا مفعول لہ ہے۔ فضول۔ لغو۔ عبث۔ انکم۔ معطوف ہے۔ اور انما معطوف علیہ۔ انما خلقنکم عبثا معطوف علیہ و حرف عطف انکم الینا لا ترجعون معطوف۔
Top