Tafseer-e-Baghwi - Aal-i-Imraan : 79
كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ
كَيْفَ : کیونکر يَكُوْنُ : ہو لِلْمُشْرِكِيْنَ : مشرکوں کے لیے عَهْدٌ : عہد عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ : اس کے رسول کے پاس اِلَّا : سوائے الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو عٰهَدْتُّمْ : تم نے عہد کیا عِنْدَ : پاس الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ : مسجد حرام فَمَا : سو جب تک اسْتَقَامُوْا : وہ قائم رہیں لَكُمْ : تمہارے لیے فَاسْتَقِيْمُوْا : تو تم قائم رہو لَهُمْ : ان کے لیے اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ يُحِبُّ : دوست رکھتا ہے الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگار (جمع)
اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے
64۔ (آیت)” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “۔ اللہ کے حکم سے اطاعت رسول واجب ہے ، زجاج (رح) کا قول ہے کہ ان کی پیروی کرو اللہ اجازت اور ان کے حکم کے مطابق اور بعض کا قول ہے کہ (آیت)” الا لیطاع “ پر کلام تام ہوجاتا ہے باذن اللہ تعالیٰ کا مطلب ہے ، کہ اللہ کے علم و فیصلے سے ، اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی طاقت وقوع پذیر ہے اس کے حکم سے (آیت)” ولوانھم اذ ظلموا انفسھم “ طاغوت کی طرف اپنے امور کا فیصلے لے جا کر اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہو ۔ (آیت)” جاء و ک فاستغفر اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ توابا رحیما ‘ ؓ
Top