Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 117
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ
وَ : اور مَنْ يَّدْعُ : جو پکارے مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ اِلٰهًا اٰخَرَ : کوئی اور معبود لَا بُرْهَانَ : نہیں کوئی سند لَهٗ : اس کے پاس بِهٖ : اس کے لیے فَاِنَّمَا : سو، تحقیق حِسَابُهٗ : اس کا حساب عِنْدَ رَبِّهٖ : اس کے رب کے پاس اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُفْلِحُ : فلاح (کامیابی) نہیں پائینگے الْكٰفِرُوْنَ : کافر (جمع)
اور جو کوئی شخص اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے سو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے، بلاشبہ بات یہ ہے کہ کافر لوگ کامیاب نہیں ہوں گے۔
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی گواہ نہیں۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی گواہ نہیں۔ 3۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لابرہان لہ “ سے مراد ہے کہ اس کے لیے کوئی دلیل نہیں۔ 4۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت ” انہ لا یفلح الکفرون “ انہ میں الف کے کسرہ کے ساتھ۔ 5۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا آیت ” اَ نہ لایفلح الکفرون “ انہ ہمزہ کے نصب کے ساتھ۔ 6۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فانما حسابہ عند ربہ، انہ لایفلح الکفرون “ سے مراد ہے کہ وہ کافر کا حساب ہوگا اللہ تعالیٰ کے پاس اور وہ کامیاب نہیں ہوگا۔
Top