Bayan-ul-Quran - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
ہاں تو کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تم کو یونہی مہمل (خالی از حکمت) پیدا کردیا ہے اور یہ خیال کیا تھا) کہ تم ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔ (ف 7)
7۔ مطلب یہ کہ جب ہم نے آیات میں جن کا صدق دلائل صحیحہ سے ثابت ہے بعث و مجازاة کی خبر دی تھی تو معلوم ہوگیا تھا کہ مکلفین کی تخلیق کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بھی ہے، اس کا منکر ہونا کتنا بڑا امر منکر تھا۔
Top