Bayan-ul-Quran - Ash-Shura : 27
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ
وَلَوْ : اور اگر بَسَطَ اللّٰهُ : کھول دے اللہ الرِّزْقَ : رزق کو لِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں کے لیے لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ : البتہ وہ بغاوت کردیں زمین میں وَلٰكِنْ : لیکن يُّنَزِّلُ : اتارتا ہے بِقَدَرٍ : ساتھ اندازے کے مَّا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے ۭ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ : بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ خَبِيْرٌۢ : خبر رکھنے والا ہے بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے لیے روزی فراخ کردیتاتو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگتے (ف 6) لیکن جتنا رزق چاہتا ہے انداز (مناسب) سے (ہر ایک کے لیے) اتارتا ہے۔ وہ اپنے بندوں (کے مصالح) کو جاننے والا (اور ان کا حال) دیکھنے والا ہے۔ (ف 7)
6۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی صفت حکمت کے آثار میں سے یہ ہے کہ اس نے سب آدمیوں کو زیادہ مال نہیں دیا، اور ظاہر ہے کہ اگر غنا عام ہوجائے تو مال کی احتیاج تو کسی کو کسی سے باقی نہ رہے اور کام کسی کا کوئی کرے نہیں، تو جانبین سے احتیاج جاتی رہے، پھر کون کسی سے دبے۔ 7۔ اس کے علاوہ حکیم ہونے کے خبیر وبصیر دو صفتیں اور ثابت ہوئیں۔
Top