Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 27
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ
وَلَوْ : اور اگر بَسَطَ اللّٰهُ : کھول دے اللہ الرِّزْقَ : رزق کو لِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں کے لیے لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ : البتہ وہ بغاوت کردیں زمین میں وَلٰكِنْ : لیکن يُّنَزِّلُ : اتارتا ہے بِقَدَرٍ : ساتھ اندازے کے مَّا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے ۭ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ : بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ خَبِيْرٌۢ : خبر رکھنے والا ہے بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق فراخ کردیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہوجاتے اور لیکن وہ ایک اندازے کے ساتھ اتارتا ہے، جتنا چاہتا ہے، یقینا وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔
(1) ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض : یہ ایک سوال کا جواب ہے جو یہاں ذہن میں پیدا ہوسکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کی دعا بہت جلدی قبول فرماتا ہے تو یہ لوگ تو رزق کی فراخی کی دعا بھی کرتے ہیں، اس کے باوجود ان پر زق کی تنگی کیوں ہے ؟ ابتدائے اسلام میں ایمان والوں پر رزق کی بہت تنگی آئی ، خصوصاً جب کفار نے ان کے ساتھ میل جول اور خریدو فروخت، غرض تمام چیزوں کا بائیکاٹ کردیا۔ جواب یہ دیا گیا کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ جتنا رزق مانگیں انھیں اتنا ہی دے دیا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا رزق ان کی مصلحت کے مطابق ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔ اگر وہ ان کے تقاضے کے مطابق ان کے لئے رزق فراخ کردیتا تو یقینا وہ زمین میں سرکش ہوجاتے، کیونکہ عام طور پر آدمی جب غنی ہوتا ہے تو نص کو بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا :(کلا ان الانسان لیطغی ان راہ استغنی) (العلق :806)”ہرگز نہیں، بیشک انسان یقیناً حد سے نکل جاتا ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھتا ہے کہ غنی ہوگیا ہے۔”اور مال و دلوت کی کثرت اسے لوگوں پر یزادتی پر ابھارتی ہے۔ ق اورن اور فرعون کا حال دیکھ لو ! اگر ان کے پاس ، اتنی دلوت نہ ہوتی تو اس طرح برباد نہ ہوتے۔ اس لئے مومنوں کے حق میں خیر یہی ہے کہ ان کا رزق زیادہ فراخ نہ کیا جائے، اگر چہ اس کے خیر ہونے کا پورا ادراک انھیں دیر سے یعنی قیامت کے دن ہوگا۔ اس کے علاوہ مال کی کمی کا مومن کا ایک اورف ائدہ بھی ہے کہ اسے عمل صالح کے لئے فراغت حاصل رہتی ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ دنیا کمانے میں مشغول رہ کر آخرت کی تیاری سے غافل نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ابو عبیدہ ؓ بحرین سے جزیے کا مال لے کر آئے تو انصار صبح کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل ہوئے اور بعد میں آپ کے سامنے آبیٹھے، آپ ﷺ انھیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا :(اظنکم قد سمعنم ان ابا عبیدہ قد جاء بشیء ؟ قالوا اجل یا رسول اللہ ! قال فابشروا واملوا ما بسرکم ، فو اللہ لا الفقر، اخشی علیکم ولکن اخشی علیکم ان تبسط علیکم الدنیا کما بست علی من کان قبلکم ، فتنافسوھا کما تنافسوھا وتھلککم کما اھلکتھم) (بخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب الجزیۃ والمودۃ مع اھل الذمۃ والحرب :3158)”میرا خیال ہے تم نے سنا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لے کر آئے ہیں ؟“ انہوں نے کہا : ”جی ہاں : یا رسول اللہ !“ آپ ﷺ نے فرمایا :”تو خوش ہوجاؤ اور خوش کرنے والی چیزوں کی امید رکھو، پس اللہ کی قسم ! میں تم پر فقیری سے تو ڈرتا ہی نہیں، بلکہ تم پر اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تم پر دنیا فراخ کردی جائے، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فراخ کردی گئی، تو تم ایک دوسرے سے زیادہ اس میں رغبت کرنے لگو، جیسا کہ انہوں نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس میں رغبت کی اور وہ ت میں اسی طرح ہلاک کر دے جس طرح اس نے انھیں ہلاک کردیا۔“ (2) ”ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض“ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اپنا احسان بھی جتلایا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی کریں گے ان کا رزق فراخ کردیتا ، جیسا کہ اس نے فرعون کا رزق یہ جاننے کے باوجود فراخ کردیا۔ چناچہ اگر اسے ملک مصر نہ ملتا تو وہ کبھی خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔ لہٰذا رزق کی تنگی بھی اہل ایمان کے لئے ایک انعام ہے جس کا شکر ان پر واجب ہے۔ (3) آیت کے الفاظ ”ولوبسط اللہ الرزق لعبادہ“ مومن و کافر دونوں کے لئے عام ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تکوینی تدبیر کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ دنیا میں نص نے مومن ہوں یا کافر سب کا رزق برابر نہیں رکھا، کسی کا زیادہ ہے کسی کا کم، تاکہ لوگ ایک دوسرے کے محتاج رہیں اور ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ (دیکھیے زخرف : 32) اسی طرح اس نے کسی کو ایک حد سے زیادہ رزق نہیں دیا، ورنہ لوگ زیادہ روزی پا کر زمین میں سرکشی اور فساد کرتے ہیں ان کا فساد اس فساد کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا جو وہ اپنی مرضی کے مطابق مال ملنے کی صورت میں برپا کرتے۔ اب اگر کوئی فساد فی الارض کرتا ہے تو وہ ایک حد سے نہیں بڑھ سکتا۔ کوئی کتنا بھی بڑا باغی ہو سب اپنی حد میں رہنے پر مجبور ہیں۔ (4) ولکن ینزل بقدر ما یشآئ : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة حجر (21) ، رعد (8) اور سورة قمر (49) کی تفسیر۔ (5) انہ بعبادہ خبیر بصیر : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة بنی اسرائیل کی آیت (30) کی تفسیر۔
Top