Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 27
وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ
وَلَوْ : اور اگر بَسَطَ اللّٰهُ : کھول دے اللہ الرِّزْقَ : رزق کو لِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں کے لیے لَبَغَوْا فِي الْاَرْضِ : البتہ وہ بغاوت کردیں زمین میں وَلٰكِنْ : لیکن يُّنَزِّلُ : اتارتا ہے بِقَدَرٍ : ساتھ اندازے کے مَّا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے ۭ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ : بیشک وہ اپنے بندوں کے ساتھ خَبِيْرٌۢ : خبر رکھنے والا ہے بَصِيْرٌ : دیکھنے والا ہے
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
(42:27) ولو بسط اللّٰہ الرزق لعبادہ۔ جملہ شرطیہ ہے لو حرف شرط ہے۔ بسط ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بسط (باب نصر) مصدر۔ اس نے کشادہ کیا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی روزی فراخ کر دے۔ لبغوا فی الارض : جواب شرط۔ لام جواب شرط کا ہے۔ بغوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ بغی (باب ضرب) مصدر۔ اس نے بغاوت کی۔ اس نے سرکشی کی اس نے زیادتی کی۔ تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں گے۔ ینزل : مضارع واحد مذکر غائب۔ تنزیل (تفعیل) مصدر۔ وہ نازل کرتا ہے۔ وہ اتارتا ہے۔ قدر۔ اندازہ شدہ۔ مقدار۔ مقدار مقررہ۔ اللہ کا حکم جو وہ اپنے بندوں کے لئے مقدد کرچکا ہے۔ فعل بمعنی مفعول۔ خبیر ۔ خبر سے فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے، بمعنی خبردار۔ دانا اللہ تعالیٰ جل و علاشانہ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اور قرآن مجید میں یہ صرف ذات باری تعالیٰ عزاسمہ ہی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ بصیر : فعیل بمعنی فاعل۔ دیکھنے والا۔ جاننے والا۔ یہ بھی اللہ رب العزت کے اسماء حسنی میں سے ہے۔
Top