Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم نے یہ خیال کیا کہ ہم نے تمہیں بطور عبث پیدا کیا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے
1۔ الحکیم الترمذی وابویعلی وابن ابی حاتم وابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ ابونعیم فی الھلیہ وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک بیمار کے کان میں آیت ” افحسبتم انما خلقنکم عبثا پڑھا یہاں تک کہ سورة کو ختم فرمایا تو وہ تندرست ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تو نے اس کے کان میں کیا پڑھا تھا انہوں نے آپ کو بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر کوئی یقین والا یہ آیت کسی پہاڑ پر پڑھے تو البتہ وہ اپنی جگہ سے ہل جائے۔ 2۔ ابن السنی وابن المنذر و ابونعیم فی المعرفہ بسند حسن من طریق محمد بن ابراہیم بن حارث التیمی سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر میں بھیجا اور ہم کو حکم فرمایا کہ ہم یہ کلمات پڑھیں جب ہم شام کریں یا صبح کریں آیت ” افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون “ ہم نے اس کو پڑھا تو ہم نے غنیمت کا مال پایا اور ہم سلامت رہے واللہ اعلم۔
Top