Dure-Mansoor - Al-Qasas : 17
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ بِمَآ : اے میرے رب جیسا کہ اَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا عَلَيَّ : مجھ پر فَلَنْ اَكُوْنَ : تو میں ہرگز نہ ہوں گا ظَهِيْرًا : مددگار لِّلْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کا
موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اس سبب سے کہ آپ نے مجھ پر انعام فرمایا سو میں ہرگز بھی مجرمین کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔
1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اکون ظہیر اللمجرمین یعنی میں کبھی بھی مجرم لوگوں کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔ 2۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال رب انی ظلمت نفسی سے مراد ہے کہ میں ہرگز کبھی بھی مجرموں کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔ اگر میں نے اس کے فجور پر کسی ظالم کی مدد کی تو میں مجرم لوگوں کی مدد کرنے والا بن جاؤں گا۔ ظالم کی مدد کرنا جائز نہیں 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن الولید الرصافی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اپنے بھائی کے بارے میں سوال کیا جو کاتب تھا کہ وہ مملکت کے کاموں میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا مگر جو چیز خزانہ میں داخل ہوتی ہے اور چیز خارج ہوتی ہے اسے لکھتا ہے اگر اپنے قلم کو چھوڑتا ہے یعنی اپنے معاوضے کو چھوڑتا ہے۔ تو اس پر قرضہ ہوجاتا ہے اور اس کے خلاف بہتان قائم ہوجاتا ہے اگر اپنے کام کا معاوضہ لیتا ہے تو وہ مالدار ہوجاتا ہے عطیہ نے پوچھا کس کے لیے وہ کتابت کا کام کرتا ہے کہا کہ خالد بن عبداللہ قشیری کے لیے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا وہ جو ایک نیک بندے نے کہا آیت قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیرا للمجرمین یعنی اس پر کوئی الزام نہیں ہوگا اسے یہی قلم کی مزدوری چھوڑدینی چالیے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرمائے گا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو حنظلہ جابر بن حنظلہ الکاتب الضبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عامر سے کہا اے ابو عمر میں ایک کاتب ہوں میں لکھتا ہوں جو چیز خزانہ میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز نکلتی ہے اس کے درہم لیتا ہوں جس کے ذریعہ میں اور میرے گھر والے غنی محسوس ہوتے ہیں پوچھا شاید تو خون بہا کو لکھتا ہے۔ کہا نہیں پھر پوچھا شاید کہ تو لکھتا ہے اس مال کے بارے میں جو لیا جاتا ہے کہا نہیں پھر پوچھا کیا تو لکھتا ہے اس گھر کے بارے میں جو گرایا جاتا کہا نہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سنا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آیت رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیر اللمجمرین، حضرت عامر نے کہا کہ میں نے ابن عمر کے پہلو میں عصر کی نماز پڑھی تو میں ان کو رکوع میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا آیت قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیرا للمجرمین حضرت عامر نے کہا کہ میں نے ابن عمر کے پہلو میں عصر کی نماز پڑھی تو میں نے ان کو رکوع میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا آیت قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیر للمجرمین۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے سلمہ بن نبی ط (رح) سے روایت کیا کہ عبد الرحمن بن مسلم نے ضحاک کی طرف آدمی بھیجا اور فرمایا کہ اہل بخارا کے عطیات لے جاؤ اور ان کو دے دو ۔ انہوں نے فرمایا مجھے معاف رکھو ضحاک لگاتار معافی کی درخواست کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو معاف کردیا آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا اگر آپ چلے جاتے تو کیا حرج تھا ان کو عطیات عطا کرتے جبکہ آپ کو گناہ بھی نہ ہوتا۔ انہوں نے فرمایا میں نہیں پسند کرتا کہ میں کسی چیز پر ظلم کا مددگار بنوں ان کے کاموں میں سے۔
Top