Tafseer-e-Baghwi - Aal-i-Imraan : 12
قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ
قَالَ : اس نے کہا رَبِّ بِمَآ : اے میرے رب جیسا کہ اَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا عَلَيَّ : مجھ پر فَلَنْ اَكُوْنَ : تو میں ہرگز نہ ہوں گا ظَهِيْرًا : مددگار لِّلْمُجْرِمِيْنَ : مجرموں کا
کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں گا
17۔ قال رب بماانعمت علی، مغفرۃ کے ساتھ مجھ پر انعام فرما۔ فلن اکون ظھیرا، ، مددگار، للمجرمین ، ، ابنعباس نے فرمایا المجرمین سے مراد کافر ہیں۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جس بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ کو مدد کے لیے پکارا تھا وہ کافر تھا، مقاتل کا یہی قول ہے کہ قتادہ نے کہا کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ آئندہ میں کسی مجرم کا مددگارنہ بنوں گا،۔
Top