Dure-Mansoor - Ash-Shura : 7
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ : آپ کی طرف قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : قرآن عربی کی لِّتُنْذِرَ : تاکہ تم خبردار کرو اُمَّ الْقُرٰى : مکہ والوں کو وَمَنْ حَوْلَهَا : اور جو اس کے آس پاس ہیں وَتُنْذِرَ : اور تم خبردار کرو يَوْمَ الْجَمْعِ : جمع ہونے کے دن سے لَا رَيْبَ فِيْهِ : نہیں کوئی شک اس میں فَرِيْقٌ : ایک گروہ ہوگا فِي الْجَنَّةِ : جنت میں وَفَرِيْقٌ : اور ایک گروہ ہوگا فِي السَّعِيْرِ : دوزخ میں
اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف قرآن عربی کی وحی بھیجی تاکہ آپ ام القری اور اس کے آس پاس کے رہنے والوں کو ڈرائیں اور جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں جس میں کوئی شک نہیں ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
جنت اور جہنم کے باشندے متعین ہیں : قولہ تعالیٰ : فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “ 8:۔ احمد (رح) و ترمذی (رح) (وصححہ) و نسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کتابیں ہم نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم کو نہیں بتائیں گے (کہ یہ کتابیں کیا ہیں) آپ نے فرمایا جو کتاب میرے داہنے ہاتھ میں ہے یہ رب العالمین کی طرف سے ہے جنت والوں اور ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں پھر آخرتک اجمالی طور پر خبردی کہ اب اس میں کبھی بھی زیادتی کمی نہیں ہوگی، پھر فرمایا جو کتاب میرے بائیں ہاتھ میں ہے یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اس میں دوزخ والوں ان کے آباء اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں پھر آخر تک اجمالی طور پر ذکر کیا کہ اب اس میں کبھی بھی نہ زیادتی ہوگی اور نہ کمی (یہ سن کر) آپ کے اصحاب ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ پھر کس لئے عمل کریں جب اس مسئلے سے فراغت ہوچکی ؟ آپ نے فرمای : میانہ روی اختیار کرو اور اللہ کی نزدیکی چاہو جو جنتی ہے اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر ہوگا خواہ اگر وہ پہلے عمل کرتا رہے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ان کو جھاڑ دیا پھر فرمایا تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا (اسی کو فرمایا) (آیت ) ” فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “ 9:۔ ابن مردویہ (رح) نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس میں آپ دیکھ رہے تھے (پھر) آپ نے فرمایا اس کی طرف دیکھو لیکن کس طرح ہے کیونکہ آپ امی تھے پڑھ نہیں سکتے تھے راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ اسکو جانتے تھے فرمایا کتاب رب العالمین کی طرف سے جس میں جنت والوں ان کے آباؤ اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں اب ان میں نہ زیادتی ہوگی اور نہ کمی اور فرمایا (آیت ) ” فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر “ (ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دہکتی ہوئی آگ میں ہوگا) تمہارے رب بندوں کے اعمال سے فارغ ہوگیا۔
Top