Tafseer-e-Haqqani - Ash-Shura : 7
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ : آپ کی طرف قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : قرآن عربی کی لِّتُنْذِرَ : تاکہ تم خبردار کرو اُمَّ الْقُرٰى : مکہ والوں کو وَمَنْ حَوْلَهَا : اور جو اس کے آس پاس ہیں وَتُنْذِرَ : اور تم خبردار کرو يَوْمَ الْجَمْعِ : جمع ہونے کے دن سے لَا رَيْبَ فِيْهِ : نہیں کوئی شک اس میں فَرِيْقٌ : ایک گروہ ہوگا فِي الْجَنَّةِ : جنت میں وَفَرِيْقٌ : اور ایک گروہ ہوگا فِي السَّعِيْرِ : دوزخ میں
اور اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان کا قرآن نازل کیا تاکہ آپ مکہ والوں اور ان کے پاس والوں کو ڈر سنا دیں اور قیامت کے دن سے بھی ڈراویں کہ جس میں کوئی شبہ نہیں (اس روز) ایک جماعت جنت میں اور ایک جماعت جہنم میں ہوگی
ترکیب : قرآنا مفعول لاوحینا لتنذر متعلق باوحینا فریق خبرمبتدء محذوف ای بعضھم فریق فی الجنۃ و الظالمون مبتدء ومابعدہ خبرہ اولیاء بالنصب علی انہ مفعول لاتخذوامن دونہ حال منہ ای حال کون الاولیاء غیر اللہ الولی خبر فاللہ ھو ضمیر الفصل للتاکید۔ تفسیر : پھر مسئلہ نبوت کا ذکر کرتا ہے وکذلک اوحینا الخ کہ جس طرح انبیائِ سابقین پر وحی کی گئی تھی اسی طرح اے محمد ﷺ ! ہم نے تیری طرف عربی زبان میں قرآن وحی کیا کس لیے لتنذرام القرٰی تاکہ تو اہل مکہ کو اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے ڈراوے کہ تم پر اگر باز نہ آؤ گے بلا آنے والی ہے اور ان کو قیامت کے دن سے بھی ڈراوے کہ جس میں کوئی شک نہیں کہ اس روز ایک جماعت جنت میں اور ایک دوزخ میں ہوگی۔ یعنی جس طرح اور انبیاء اپنی امتوں کے ڈرانے کے لیے آئے اسی طرح آپ اہل مکہ اور ان کے آس پاس والوں کے لیے۔ نبوت قائم کرنے کی وجہ لوگوں کا ڈرانا اکثر قرآن میں آیا ہے اور بشارت اس کے ساتھ میں آئی ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جب بنی آدم کی حالت خراب ہوجاتی ہے ‘ فلسفہ و علوم عقلیہ اس کی اصلاح سے عاجز آکر کسی گوشہ میں منہ چھپا کر بیٹھ جاتے ہیں اگر اس وقت خدا تعالیٰ کا داعی وہادی نہ آوے تو اس بدکاری وغیرہ امراض روحانیہ میں مبتلا ہو کر نہ صرف آخرت میں جہنم کے ایندھن بن جائیں بلکہ معاش بھی بگڑ جاوے جس سے کسی دنیاوی بلا کا بھی سخت اندیشہ ہوتا ہے ایسے وقت میں خدا رحیم و کریم اپنے کسی بندے کو نبی اور مؤیّد من اللہ بنا کر بھیجتا ہے اس کا پہلا کام ان لوگوں کو آنے والی بلا سے ڈرانا ہوتا ہے تاکہ افعالِ بد سے باز آویں اس لیے لتنذر فرمایا۔ اور منہیات ترک کرنے کے بعد اگر اچھے کام کرنے لگیں تو ان کو انعام و اکرامِ الٰہیہ کی بشارت دی جاتی ہے اور نبی کا مبعوث کرنا اتمام حجت کے لیے ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے عہد میں تمام عالم ہر قسم کی گمراہی و بدکاری سے تاریک ہوگیا تھا اور آپ کو مصلحتِ الٰہی نے مکہ میں سے مبعوث کیا جس کو عرب ام القریٰ کہتے تھے اس لیے ام القریٰ اور اس کے آس پاس والوں کا زیادہ استحقاق تھا لہٰذا ان کی تخصیص کی گئی اور نیز سب سے پیشتر نبی اپنی قوم اور شہر اور وطن سے تبلیغ شروع کیا کرتا ہے پھر دور تک یا تمام عالم تک پہنچتا ہے اپنے نائبوں کے ذریعہ سے ام القرٰی و من حولہا کا ذکر کرنا تمام عالم کے نبی نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ لتنذر میں عام بلائوں سے ڈرانا بتایا ہے و تنذریوم الجمع میں اخروی بلائوں سے فریق فی الجنۃ الخ کے متعلق ایک حدیث ہے جس کو ترمذی و نسائی و احمد وابن جریروابن المنذر وابن مردویہ نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار دو کتابیں ہاتھ میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا ان کو تم جانتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا یہ خدا وند تعالیٰ کی دو کتابیں ہیں جو دائیں ہاتھ میں ہے اس میں تمام اہل جنت اور ان کے باپ دادا کے بالتفصیل نام درج ہیں اور بائیں ہاتھ میں اسی تفصیل سے دوزخ والوں کے نام ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا اب عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟ فرمایا کوشش کئے جاوے۔ اہل جنت کا خاتمہ نیک کاموں پر ہوتا ہے کچھ ہی کیوں نہ کرے اور دوزخی کا برے کاموں پر کچھ ہی کیوں نہ کرے۔ یہ تقدیری بات ہے کیونکہ ولوشاء اللہ الخ اگر اللہ چاہتا تو دو فریق نہ کرتا ایک ہی کردیتا مگر وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں لیتا ہے والظالمون اور ازلی گمراہوں کو کوئی مددو حمایت کرکے راہ پر نہیں لاسکتا ہے ان کی گمراہی کی ایک یہ بات ہے اتتخذوامن دو نہ اولیاء اللہ کے سوا اور حمایتی فرض کر رکھے ہیں حالانکہ اصل حمایتی اللہ ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے نطفوں سے زندہ انسان پیدا کرتا ہے اور آخرت میں بھی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر شے پر قادر ہے پس اس کو حمایتی بنانا چاہیے نہ اوروں کو۔ اس مسئلہ نبوت میں مسئلہ حشر بھی ثابت کردیا گیا۔ تفسیر : ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ کی بابت (جس میں ایمان و کفر تقدیری کی طرف اشارہ ہے) مخالفین جھگڑتے تھے بعض اس طور پر کہ کیوں اللہ نے بعض کو رحمت میں داخل کیا اوروں کو نہ کیا ؟ بعض اس طور پر کہ رحمت میں ہم داخل ہیں کفار اپنے جاہ و مال کے لحاظ سے اپنے تئیں رحمت میں داخل سمجھتے تھے ایماندار دولت آخرت کے لحاظ سے اپنے تئیں۔ اس لیے اس کے بعد یہ فرما دیا وما اختلفتم فیہ من شیئٍ فحکمہ الی اللہ کہ ان اختلافی باتوں میں فیصلہ اللہ کے سپرد ہے جو وہ کہہ دے برحق ہے ذلکم اللہ ربی یہ اللہ میرا رب ہے جس پر میرا توکل ہے اور اس کے پاس مجھے پھر کر جانا ہے یا ہر امر میں میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں نہ کسی اور کی طرف اس میں اشارہ ہے کہ اگر تمہارا بھی اللہ سے یہی حسن ظن ہے تو بہتر۔ اس آیت سے یہ بھی ثابت ہے کہ جمیع امور میں خدا وندی فیصلہ کا پابند رہنا چاہیے اس کے بعد خداوند تعالیٰ اور چند اوصاف بیان فرماتا ہے جن سے غیر اللہ کے ولی معبود بنانے پر ایک لطف کے ساتھ تعریض بھی ہے (1) فاطر السموات والارض وہ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے نہ کوئی اور جو چاہے کرے۔ جس کو جس حال پر چاہے پیدا کرے کون پوچھ سکتا ہے۔ (2) جعل لکم الخ کہ تمہاری جنس کے تمہارے لیے جوڑے پیدا کئے اور اسی طرح چارپایوں میں بھی اور اس نر و مادہ سے تم کو پھیلایا نسل کو بڑھایا۔ یہ بھی اسی کا کام ہے نہ تمہارے کسی معبود کا۔ پھر کوئی مادہ کہہ سکتی ہے کہ مجھے نر کیوں نہ بنایا اور چارپائے کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو انسان کیوں نہ بنایا ؟ پس وہ مختار ہے ازل میں جس کو چاہے رحمت میں شامل کیا جس کو نہ چاہا نہ شامل کیا۔ (3) لیس کمثلہ شیئٌ۔ عرب کے کلام میں مثل بول کر خاص شخص بطور کنایہ کے مراد لیا کرتے ہیں کہتے ہیں مثلک لایبخل آپ کی مثل یعنی آپ جیسے لوگ بخل نہیں کرتے مطلب یہ کہ آپ نہیں کرتے کیونکہ جب آپ کی مثل نہیں کرتے تو آپ بطریق اولیٰ نہیں کرتے۔ ہمارے محاورے میں بھی مثل اور جیسے کے لفظ سے وہی شخص مراد ہوا کرتا ہے مراد یہ کہ اللہ کا کوئی مثل نہیں نہ ذات میں نہ صفات میں جس پر ان کا قیاس کر کے اس کے فعل میں اس کو ظلم کی طرف منسوب کیا جاوے اور نیز جب اس کی مانند کوئی نہیں تو اور کسی کو حمایتی اور معبود بنانا عبث و بیکار ہے۔ یہ آیت تنزیہ باری تعالیٰ کے لیے ایک اصل اصول ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ اس کے مانند نہ آدم تھے نہ کوئی اور نہ وہ جسمانی ہے نہ اعضائِ جسمانی رکھتا ہے مکان و خیر ‘ موت و فنا وغیرہ جمیع نقائص سے پاک و مبرا ہے۔ (4) وھوالسمیع البصیر اور وہ سنتا دیکھتا ہے مگر نہ بندوں کی طرح جس کا سننا کان بغیر نہیں ہوسکتا دیکھنا آنکھ بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہر ایک بات اس کو معلوم ہے پس جو کچھ وہ فیصلہ کرے گا علم و بصیرت سے کرے گا (5) لہ مقالید السٰموت الخ اس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اور خزانے ہیں جس کو چاہتا ہے روزی بہت دیتا ہے ‘ جس کو چاہتا ہے نپی تلی یعنی کم۔ اس میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس نے ظلم کیا فلاں کو امیر کیا فلاں کو فقیر کیوں کیا ظلم کردیا۔ انہ بکل شیئٍ علیم۔ ہر ایک بات جانتا ہے مناسب اور غیر مناسب اس کو علم ہے اسی طرح سے کرتا ہے اسی کا فیصلہ ناطق ہے اس کے بعد مسئلہ نبوت شروع کرتا ہے شرع لکم من الدین الخ کہ اے لوگوں تمہارے لیے کوئی نئی بات نازل نہیں ہوئی ہے بلکہ وہی قدیم دین کہ جس پر نوح و ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ مامور تھے اور اسی پر محمد ﷺ مامور کئے گئے 1 ؎ وہ کیا ہے ان اقیموالدین الخ کہ دین یعنی اصول شرائع توحید و اقرار رسالت و مکارم اخلاق و ترک منہیات پر قائم رہو اختلاف نہ کرو مگر مشرکوں پر اے محمد ﷺ ! تیرا توحید و مکارم اخلاق پر بلانا شاق گزرتا ہے کہ تجھ میں کیا خصوصیت تھی جو نبی کیا گیا حالانکہ اللہ مختار ہے جس کو چاہے نبوت کے لیے برگزیدہ کرے اور جس کو چاہے ہدایت دے۔ ا ؎ اصول دین تمام انبیاء کے ایک ہیں نہ یہ منسوخ ہوا کرتے ہیں نہ مٹائے جاتے ہیں ہاں ہر امت کے لیے حسب زمانہ ان اصول کے قواعد جداگانہ ہوتے ہیں ان کو شریعت کہتے ہیں۔ اس میں ضرور اختلاف اور نسخ ہوتا ہے قال تعالیٰ لکل جعلنا منکم شرعۃ و منہاجاً اس طرح جزئیات مسائل میں اختلاف آراواجنہاد کے اختلاف سے ہوتا ہے۔ 12 منہ۔
Top