Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 7
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ : آپ کی طرف قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : قرآن عربی کی لِّتُنْذِرَ : تاکہ تم خبردار کرو اُمَّ الْقُرٰى : مکہ والوں کو وَمَنْ حَوْلَهَا : اور جو اس کے آس پاس ہیں وَتُنْذِرَ : اور تم خبردار کرو يَوْمَ الْجَمْعِ : جمع ہونے کے دن سے لَا رَيْبَ فِيْهِ : نہیں کوئی شک اس میں فَرِيْقٌ : ایک گروہ ہوگا فِي الْجَنَّةِ : جنت میں وَفَرِيْقٌ : اور ایک گروہ ہوگا فِي السَّعِيْرِ : دوزخ میں
اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں کہ ان کے بجائے آپ کی پکڑ کی جائے اور اسی طرح ہم نے بذریعہ جبریل امین آپ پر قرآن عربی نازل کیا ہے تاکہ آپ قرآن کریم کے ذریعے سے سب سے پہلے مکہ والوں اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والوں کو ڈرائیں اور جمع ہونے کے دن کی آفتوں سے بھی ڈرائیں جس میں تمام آسمان و زمین والے جمع ہوں گے جس دن میں کوئی شک نہیں ان جمع ہونے والوں میں سے مسلمانوں کا گروہ جنت میں اور ایک گروہ کافروں کا دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔
Top