Dure-Mansoor - Al-Hashr : 18
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
يٰٓاَيُّهَا : اے الَّذِيْنَ : جو لوگ اٰمَنُوا : ایمان والو اتَّقُوا اللّٰهَ : تم اللہ سے ڈرو وَلْتَنْظُرْ : اور چاہیے کہ دیکھے نَفْسٌ : ہر شخص مَّا قَدَّمَتْ : کیا اس نے آگے بھیجا لِغَدٍ ۚ : کل کے لئے وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ : اور تم ڈرو اللہ سے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ خَبِيْرٌۢ : باخبر بِمَا : اس سے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اے ایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور چاہیے کہ ہر شخص دیکھ لے وہ جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجا اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور چاہیے کہ ہر شخص دیکھ لے وہ جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجا اور تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو یقیناً اللہ تعالیٰ باخبر ہے ان کاموں سے جو تم کرتے ہو
صدیق اکبر ؓ کا خطبہ 11۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ما قدمت لغد سے مراد ہے قیامت کا دن 12۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے نعیم بن محمد الرجی (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق کے خطبہ میں سے یہ ہے۔ تم جان لو ! بیشک تم ایک مقررہ مدت میں صبح کرتے ہو شام کرتے ہو کہ اس کا علم تم سے مخفی رہ گیا ہے۔ اگر تم طاقت رکھتے ہو تو مدت گزر جائے اور تم کوئی بچاؤ کا طریقہ کرسکو تو تم ضرورایسا کرتے۔ لیکن تم ہرگز اس پر قادر نہیں ہوسکتے مگر اللہ کی اجازت سے اور ایک قوم نے اپنی عمر دوسروں کو دی تو اللہ تعالیٰ نے تم کو روکا کہ تم ان کی طرح نہ ہوجائے اور فرمایا آیت ولا تکونوا کالذین نسوا اللہ فانسہم انفسہم اولئک ہم الفسقون۔ اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی ان کو بھلادیا۔ یہی لوگ نافرمان ہیں۔ وہ کہاں ہیں جن کو تم پہچانتے تھے اپنے بھائیوں میں سے ؟ ان سے ان کے اعمال ختم ہوگئے۔ اور جو اعمال انہوں نے آگے بھیجے وہ ان کو پہنچ گئے۔ کہاں گئے وہ پہلے جبر وظلم کرنے والے جنہوں نے شہر بنائے اور فصیلوں کے ساتھ ان کو مضبوط کیا۔ تحقیق وہ چٹانوں اور ٹیلوں کے نیچے آگئے ہیں۔ یہ اللہ کی کتاب ہے کہ اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے۔ اور نہ اس کا نور بجھایا جاسکتا ہے تم آج اس سے روشنی حاصل کرو تاریک دن کے لیے اور اس کے لکھے ہوئے واضح بیان سے نصیحت حاصل کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک قوم کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں آیت انہم کانوا یسرعون فی الخیرات ویدعوننا رغبا ورہبا وکانوا لنا خشعین۔ بلاشبہ یہ لوگ نیک کاموں میں دوڑ پڑتے ہیں اور ہمیں امید اور ڈر سے پکارا کرتے ہیں اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں۔ کسی بات میں خیر نہیں جس میں اللہ کی رضا طلب نہ کی جائے۔ اور اس مال میں خیر نہیں جو اللہ کے راستے میں خرچ نہ کیا جائے۔ اور ایسے آدمی میں کوئی خیر نہیں۔ کہ جس کا غصہ اس کے حلم پر غالب آجائے۔ اور اس آدمی میں خیر نہیں جو اللہ کی راہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈر تا ہے۔
Top