Tafseer-e-Haqqani - Al-Hashr : 18
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
يٰٓاَيُّهَا : اے الَّذِيْنَ : جو لوگ اٰمَنُوا : ایمان والو اتَّقُوا اللّٰهَ : تم اللہ سے ڈرو وَلْتَنْظُرْ : اور چاہیے کہ دیکھے نَفْسٌ : ہر شخص مَّا قَدَّمَتْ : کیا اس نے آگے بھیجا لِغَدٍ ۚ : کل کے لئے وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ : اور تم ڈرو اللہ سے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ خَبِيْرٌۢ : باخبر بِمَا : اس سے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے
تفسیر : اہل سعادت اور اہل شقاوت کا ذکر کر کے اہل سعادت کو ان کے اصول سعادت کی طرف متوجہ کرتا ہے جو دارین میں اس کے لیے کافی ہیں۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا اتقواللہ واضح ہو کہ انسانی سعادت کے دو حصے ہیں۔ اول قوت نظریہ کی تکمیل ‘ جہل بسیط و جہل مرکب کی ظلمات سے نجات پانا۔ علم کی روشنی میں خدا تعالیٰ کی صفات و ذات اور دیگر امور ضروریہ کو واقعی طور پر یقین کر کے توہمات و تخیلات باطلہ کی دلدل سے گزر جانا۔ اس کو شرع میں ایمان کہتے ہیں۔ جن کو یہ صفت حاصل ہوگئی ہے ان کو ایمان والے کہتے ہیں۔ بس وہ ایمان والوں کو اس پر ثابت رہنے یا اس میدان میں ترقی کرنے کے لیے تقویٰ کا حکم دیتا ہے۔ تقویٰ اللہ سے ڈرنا اور ڈر کر عمدہ اور کارآمد مسائل سعادت حاصل کرنا مضرات سے بچنا۔ دوسرا حصہ سعادت کا اصلاح عمل و تہذیب اخلاق ظاہری و باطنی ہے۔ اور یہ ایک مشقت کا کام ہے اور نفس پر بڑے جہاد کرنے پڑتے ہیں اس لیے اس کو ان تاکیدی الفاظ میں ادا کرتا ہے۔ فقال ولتنظر نفس ماقدمت لغدواتقوا اللہ کہ ہر شخص (نکرہ میں تعمیم ہے) کسی قوم کسی رتبے کا ہو، یہ دیکھے کہ میں نے کل کے لیے یعنی اس جہان کے لیے (جو بہت قریب پیش آنے والا ہے گویا دنیا اور اس کی تمام زندگی ایک روز ہے اگلا دن اس دوسرے جہان کا ہے گویا بہت ہی قریب ہے، غد کے لفظ میں اس مطلب کو کس خوبی کے ساتھ ادا کردیا) کیا بھیجا ہے ؟ یعنی کیا توشہ اور کون سا سرمایہ اس جہان کے لیے جہاں سدا رہنا ہے تیار کیا ہے ؟ اور وہ توشہ تقویٰ ہے اس لیے تقویٰ کرنا چاہیے۔ انسان جب اپنی عمر رواں اور اس کے اندر ملک جاودانی کے لیے توشہ مہیا کرنے کا خیال کرے گا تو قطعاً اس کے تمام قوائے باطنیہ میں ایک سخت تحریک پیدا ہوگی اور اس کے بعد جب یہ بھی خیال ہوگا کہ ان اللہ خبیر بما تعملون اللہ خبردار ہے ہمارے ہر عمل سے واقف ہے تو اور بھی کوشش اور اخلاص میں سرگرمی کرے گا۔ تقویٰ تمام حسنات و اصول سعادت کا اصل الاصول ہے اس لیے ہر ایک بات یا ہر ایک حصہ کے لیے جداگانہ اتقوا اللہ کا اطلاق ہوا اور بظاہر اس لفظ کو مکرر لا کر نفس غافل کو متنبہ کردیا۔ اس کے بعد اور بھی سرگرمی کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ولاتکونواکالذین نسوا اللہ الخ اور ان جیسے نہ ہوجاؤ کہ جو اللہ کو بھول گئے اور شب و روز اس چند روزہ زندگی کے لیے شہوات و لذات میں ایسے محو ہوئے کہ اللہ کو بھی بھول گئے پھر دار آخرت کی یاد اور وہاں جانے کا خیال کیسا ؟ اس لیے اللہ نے بھی ان کو بھلا دیا یعنی سعادت وحیات جاودانی سے محروم کردیا اور وہ بدکار لوگ ہیں۔ یہ اہل سعادت کے برابر نہیں ہوں گے۔ لایستوی اصحاب النار الخ کہ جہنم میں جلنے والے اور جنت میں آرام پانے والے ہرگز برابر نہیں۔ اہل جنت جو ہیں بامراد ہیں اور جہنمی کون ؟ یہ بیان نہیں کیا اس کو عاقل سمجھ سکتا ہے یعنی نامراد۔ یہ اصول سعادت جو قوت نظریہ اور عملیہ کے متعلق ہیں سب انسان کو بذریعہ ایک الہامِ الٰہی کے پہنچے ہیں جس کا نام قرآن ہے اس لیے سعادت کا دارومدار قرآن کی پابندی پر ہے۔ لہٰذا قرآن مجید کی عظمت شان بیان فرماتا ہے فقال لو انزلنا ھذا القرآن الخ کہ اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے جیسا کہ انسانوں پر نازل کیا ہے تو ہیبت الٰہی کے مارے پھٹ جاتا۔ یہ تمثیل ہے یعنی باوجودیکہ پتھر سخت اور غیرمتاثر ہے اگر وہ عاقل اور قابل خطاب ہوتا اس پر قرآن نازل ہوتا تو وہ خوف کے مارے پھٹ جاتا مگر انسان کیسا سخت دل ہے۔ اسی لیے روز میثاق آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں نے بار امانت نہ اٹھایا، انسان نے اٹھالیا۔
Top