Mafhoom-ul-Quran - Al-Hashr : 18
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
يٰٓاَيُّهَا : اے الَّذِيْنَ : جو لوگ اٰمَنُوا : ایمان والو اتَّقُوا اللّٰهَ : تم اللہ سے ڈرو وَلْتَنْظُرْ : اور چاہیے کہ دیکھے نَفْسٌ : ہر شخص مَّا قَدَّمَتْ : کیا اس نے آگے بھیجا لِغَدٍ ۚ : کل کے لئے وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ : اور تم ڈرو اللہ سے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ خَبِيْرٌۢ : باخبر بِمَا : اس سے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (آخرت) کے لیے کیا سامان بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
مسلمانوں کا کردار اللہ اور قرآن کی صفات تشریح : قرآن پاک کا یہ اصول ہے کہ ڈر اور خوشخبری دونوں ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ پچھلی آیات میں برے لوگ اور ان کے برے انجام کا ذکر تھا تو یہاں اچھے لوکوں کی تعریف کی گئی ہے کہ یاد رکھو تمہارے لیے جنت کے باغات اور تمام رحمتیں ہیں تم اور وہ لوگ جو جہنم کے وارث ہوئے ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا خوش نصیب لوگوں کا کام ہے آیت 21 کی وضاحت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب یوں کرتے ہیں ملاحظہ ہو۔ ، اس تمثیل کا مطلب یہ ہے کہ قرآن جس طرح اللہ کی کبریائی، اس کے حضور بندے کی جواب دہی کو صاف صاف بیان کررہا ہے۔ اس کا فہم اگر پہاڑ جیسی عظیم مخلوق کو ہوجاتا اور اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کو کس رب قدیر کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے تو وہ بھی خوف سے کانپ اٹھتا۔ لیکن حیرت کے لائق ہے اس انسان کی بےحسی اور بےفکری جو قرآن کو سمجھتا ہے اور اس کے ذریعہ سے حقیقت حال جان چکا ہے اور پھر بھی اس پر نہ کوئی خوف طاری ہوتا ہے، نہ کبھی اسے یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ جو ذمہ داریاں اس پر ڈالی گئی ہیں ان کے بارے میں وہ اپنے خدا کو کیا جواب دے گا۔ بلکہ قرآن کو سن کر یا پڑھ کر وہ اس طرح غیر متاثر رہتا ہے کہ گویا وہ ایک بےجان و بےشعور پتھر ہے جس کا کام سننا اور دیکھنا اور سمجھنا ہے ہی نہیں،۔ (از تفہیم القرآن) ۔ دراصل یہاں پر قرآن کی اہمیت و عظمت اور پر اثر کتاب ہدایت ہونے پر زور دیا گیا ہے اور پھر ُ اس ذات باری تعالیٰ کی عظمت وقدرت کا ذکر ہے کہ جس نے یہ بہترین، جامع، معقول اور تمام علوم و فنون کی کتاب نازل فرمائی ایک ایسی کتاب کہ جس میں ماضی، حال و مستقبل عالم الغیب اور عالم الشہادت کی تمام خبریں پوری سچائی اور وضاحت کے ساتھ بیان کردی گئی ہیں اور یہ کہ اس کی ہر آیت حق و باطل کا فرق واضح کرتی ہے۔ معبود برحق کا یقین دلاتی ہے، طبیعی، روحانی بدنی غرض ہر قسم کا علم مہیا کرتی ہے اور اس دنیا و آخرت کی دنیا کے انجام کو بڑی اچھی طرح واضح کرتی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ آں کتاب زندہ قرآن حکیم حکمت اولا یزال است و قدیم (علامہ اقبال (رح) ) تو یہ سب کچھ یونہی تو نہیں کردیا گیا بلکہ انسان کو بتایا گیا ہے کہ اس کو پیدا کرتے ساتھ ہی اس کی رہبری و ہدایت کے لیے کتاب اور رسول ﷺ کا بندوبست کردیا گیا جس طرح کسی بھی مصنوعات کے ساتھ بنانے والا ایک بک لٹ ضرور دیتا ہے۔ اب اگر اس کتاب سے ہدایت لیے بغیر زندگی گزارتا ہے تو پھر سوائے ادھر ادھر بھٹکنے کے اور کیا ہوگا۔ نتیجہ یہی ہوگا کہ بھٹکتے بھٹکتے کبھی گڑھے میں گرے گا تو کبھی دلدل میں پھنسے گا۔ کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ اللہ کی دی ہوئی کتاب ہدایت کو پڑھ کر اس کے بتائے ہوئے طریقوں پر چل کر، آسان، پر سکون اور کامیاب زندگی گزارے اور آخرت کے لیے مال جمع کرے تاکہ نجات ملے اور سکون عیش و آرام کے خزانے مل جائیں۔ ملاحظہ ہو۔ ایماں کی حفاظت تجھے مطلوب اگر ہے قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان (علامہ اقبال (رح) ) حدیث میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔” تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے “۔ (بخاری) جو ہدایات ہم آپ کو دے رہے ہیں ان کو مضبوطی سے پکڑو اور (دھیان سے) سنو۔ (البقرہ :93) مطلب یہ ہے کہ اپنی تمام جسمانی صلاحیتوں کو جمع کرنے کے بعد قرآن کو پڑھو، یعنی، سماعت، بصارت، تلاوت، تدبر اور تذکر جب جمع ہوجائے گا تو مفہوم قرآن خود بخود دل و دماغ اور روح کے اندر اتر جائے گا۔ اور جب یہ مقام آئے گا تو پھر جسم کا کون سا حصہ ہے جو احکامات خداوندی پر عمل کرنے سے انکار کرے گا۔ اور جب ایک مومن قرآن کی تمام نعمتیں، برکتیں اور فضیلتیں سمیٹ لے گا تو پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس کتاب کے بھیجنے والے کی عظمت کو پہچان نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر دو جگہ بڑا واضح کیا گیا ہے۔ ایک سورة بقرہ آیت الکرسی میں اور ایک یہاں سورة الحشر کی 22 سے 24 تک کی آیات میں۔ بڑے خوبصورت اور دلنشیں انداز میں اللہ تعالیٰ کے 99 صفاتی ناموں میں سے کچھ کا ذکر یہاں کیا گیا ہے۔ مثلاً وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہر قسم کی رشتہ داریوں اور مددگاروں سے وہ پاک ہے۔ صرف وہی عبادت کے لائق ہے کیونکہ اس کا علم بڑا وسیع ہے ظاہر اور غیب وہ سب جانتا ہے۔ وہ بڑا مہربان اور سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے اس لیے بندگی اور دعا صرف اسی سے ہوسکتی ہے اور کسی سے نہیں۔ وہ بادشاہ کل ہے۔ پاک ذات سب عیبوں سے سالم، امان دینے والا، نگہبان، ہر چیز پر غلبہ رکھنے والا زبر دست بڑائی والا اور اللہ مشرکوں کے شریک بنانے سے پاک ہے کیونکہ وہی تو ہے جو تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے۔ بہترین ایجادات کا خالق اور طرح طرح کی صورتیں بنانے والا کمال یہ ہے کہ نین نقش ایک ہی ہیں مگر پھر بھی ایک کی شکل دوسرے سے نہیں ملتی یہاں تک کہ انگلیوں کے نشانات اور آواز تک ہر بندے کی مختلف ہوتی ہے۔ ہے کوئی اس کے مقابلے کا خالق ؟ ہرگز نہیں ! اس لیے اللہ کے صفاتی نام بیشمار ہیں کیونکہ تمام حکمتیں اور ہر طرح کے غلبہ صرف اسی کے قبضہ میں ہے نہ کوئی اس کی حکمتوں سے انکار کرسکتا ہے اور نہ کوئی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ انسانی عقل کی پہنچ اس تک ہرگز نہیں ہوسکتی، وہ زبردست اور بڑا حکمت والا ہے۔ اسی لیے تمام مخلوقات، انسان، حیوانات، جنات، نباتات، جمادات غرض ہر چیز صرف اور صرف اللہ کی ہی تسبیح و تقدیس کرتی رہتی ہے۔ کون ہے جو اس قدر عظیم و کبیر خالق العٰلمین کی بندگی نہ کرے گا ؟۔ ہاں انسان میں کچھ طبقات ایسے ہیں جو شیطان کی بندگی کرنے لگے ہیں۔ تو ایسے ہی لوگوں کے لیے بد نصیبی کا اعلان کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کا اور اس کی حکومت کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے مگر اپنا سب کچھ تباہ و برباد کرلیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے کہا گیا ہے۔ شعلہ شمع خدائی بھی کبھی بجھتا ہے رہ گئے اپنا سامنہ لے کے بجھانے والے نقش اسلام نہ اعداء کے مٹانے سے مٹا مٹ گئے آپ ہی جتنے تھے مٹانے والے خلاصہ سورة الحشر یہ سورت اسوہ رسول ﷺ کی طرف متوجہ کرتی ہے کیونکہ غزوہ بنو نضیر میں جو کچھ آپ ﷺ نے کیا وہ سب مسلمانوں کے لیے جنگی، معاشی اور دینی حدود بن گئی ہیں۔ یعنی برائی کو ختم کرنے کے لیے اور دین کی سربلندی کیلئے۔ اللہ کی مدد کے ساتھ پورے جذبہ اور خلوص اور توکل علی اللہ کے ساتھ پوری شجاعت اور بےخوفی سے اصولوں کے تحت دشمن سے مقابلہ کرو۔ اس کی طاقت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد فَیْکی تقسیم میں خاص طور سے ضرورت مندوں کا خیال رکھا گیا تاکہ غریب زیادہ غریب اور امیر زیادہ امیر نہ ہوجائیں اور پیسہ گردش میں رہے اور یوں مسلمان اچھے مسلمان بن سکیں۔ دراصل اسلام کے اصول بڑے ہی اچھے اور پُر معنی ہیں کیونکہ یہ انسان کو بڑا اچھا انسان بنا دیتے ہیں حدیث ملاحظہ ہو۔ سیدناابو ذر غفاری ؓ سے مروی ہے۔ ، میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا رسول ﷺ اللہ تنہا بیٹھے ہیں۔ میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو میں نے کہا اے رسول اللہ ﷺ مومنوں میں سب سے زیادہ افضل کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ، جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو،۔ پھر میں نے پوچھا کہ سب سے افضل مسلم کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ، جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ ہوں۔ پھر میں نے پوچھا کہ سب سے افضل ہجرت کون سی ہے ؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اس شخص کی ہجرت جو برائیوں کو چھوڑ دے۔ (از تفسیر ابن کثیر) اصل میں ہجرت کا مطلب ہے چھوڑ دینا۔ اللہ پر ایمان انسان کو کامل انسان بنا دیتا ہے۔ اور ایمان کی برکت سے وہ اندر سے باہر تک بالکل بدل جاتا ہے اسے ہر چیز کی بڑائی، قدرت اور عظمت دکھائی دینے لگتی ہے۔ حسن بصری (رح) تعالیٰ نے کہا کہ، ایک گھڑی کے لیے اللہ میں سوچنا (غور کرنا) ساری رات نماز پڑھنے سے بہتر ہے،۔ اسی طرح سفیان بن عینیہ نے کہا کہ، غور وفکر کرنا روشنی ہے جو تمہارے دل میں داخل ہوتی ہے،۔ وہ کہا کرتے تھے کہ، جب آدمی کے اندر سوچ کا مادہ ہو تو ہر چیز میں اس کے لیے عبرت و نصیحت ہوگی،۔ (از دین انسانیت) اللہ کی پہچان، رسول اللہ ﷺ کی پیروی اور قیامت پر یقین یہی وہ بنیادی عقائد ہیں جو انسان کی اس زندگی کو صاف اور اس زندگی کو پاک کر کے جنت کی راہ دکھائیں گے اللہ ہمیں اس کی توفیق دے۔ ( آمین) (الحمد للہ سورة الحشر ختم ہوگئی)
Top