Mazhar-ul-Quran - Al-Hashr : 18
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
يٰٓاَيُّهَا : اے الَّذِيْنَ : جو لوگ اٰمَنُوا : ایمان والو اتَّقُوا اللّٰهَ : تم اللہ سے ڈرو وَلْتَنْظُرْ : اور چاہیے کہ دیکھے نَفْسٌ : ہر شخص مَّا قَدَّمَتْ : کیا اس نے آگے بھیجا لِغَدٍ ۚ : کل کے لئے وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ : اور تم ڈرو اللہ سے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ خَبِيْرٌۢ : باخبر بِمَا : اس سے جو تَعْمَلُوْنَ : تم کرتے ہو
اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو (اور اس کے حکم کی مخالفت نہ کرو) اور1 ہر شخص کو چاہیے کہ غور کرے کہ کل (قیامت کے دن) کے واسطے اس نے کیا ذخیرہ آگے بھیجا ہے ، اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔
اللہ تعالیٰ کی یاد ہر دم رکھنی چاہیے ورنہ شدید پچھتاوا ہوگا۔ (ف 1) ہر ایماندار کو چاہیے کہ اپنے نیک عملوں پر کبھی کبھی نظر ڈال لیاکرے کہ قیامت کے لیے اس نے کیا سامان آگے بھیجا کیونکہ قیامت کے دن جنت کے درجے نیک عملوں کے موافق تقسیم ہوں گے اس لیے اس دن ہر ایک کو نیک عملوں کی بڑی قدر ہوگی ۔ چناچہ معتبر سند سے مسند امام احمد میں محمد بن ابی عمرہ صحابی سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں جو شخص تمام عمر نیک عملوں میں مصروف رہے اس کو بھی قیامت کے دن یہ پچھتاوا رہے گا کہ اس نے اور زیادہ نیک عمل کیوں نہیں کیے اس مضمون کی اور بھی صحیح حدیثیں ہیں نیک عملوں کی ترغیب کے بعد ایماندار لوگوں کو ان لوگوں کی حالت سے ڈرایا ہے، جو دنیا کے مخمصے میں پھنس کر اللہ کی فرمانبرداری بھول گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو ایسا بھولکڑ کردیا ہے کہ کبھی ان کو یہ یاد نہیں آتا کہ وہ کس کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کیا کررہے ہیں۔ معتبر سند سے مسند امام احمد ، صحیح ابن حبان، مستدرک حاکم میں ابودرداء سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کے دل سے دنیا کی حرص کم ہوجانے کے لیے ہر روز فرشتے آسمان و زمین کے بیچ میں کھڑے ہوکر پکار کر یہ کہا کرتے ہیں کہ جس خوش حالی سے انسان خدا کو بھول جائے اس خوشحالی سے تنگدستی بہتر ہے۔ یہ حدیث آیت کے ٹکڑے ، فانسھم انفسھم کی گویا تفسری ہے کیونکہ آیت اور حدیث کے ملانے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ جن لوگوں کو ایسی خوش حالی ہے جس سے وہ خدا کو بھول گئے ہیں تو وہ خوش حالی اس آیت کے موافق اللہ کی خفگی کے سبب سے ہے اسی واسطے فرشتوں کی آواز کا اثر ایسے لوگوں کے دل پر کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ کثرت گناہوں سے ان کے دل پر زنگ چھاجاتا ہے وہ زنگ کسی نصیحت کے اثر کو ان کے دل تک نہیں پہنچنے دینا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بغیر توبہ کے گناہوں کے سبب سے آدمی کے دل پر زنگ آجاتا ہے اس گناہ گاری کے سبب سے ان لوگوں کو بےحکم فرمایا ہے اب بےحکم لوگوں کاٹھکانہ دوزخ ہے اور فرمانبردار لوگوں کاٹھکانہ جنت ہے اسی لیے فرمایا اہل دوزخ اور اہل جنت دونوں برابر نہیں ہیں ، اہل دوزخ کو طرح طرح کی کلفت ہے اور اہل جنت کو طرح طرح کی راحت۔ آگے مثال کے طور پر فرمایا کہ ان بےحکم لوگوں کے دل پر زنگ آن کر ان کے دل گویا پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے وہ نصیحتیں ہیں جو پتھر کو بھی موم کردیں، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ جس میں نبی ﷺ نے اس پتھر کا ذکر کیا جو اس وقت جب آپ نبی نہیں ہوئے تھے تو آپ سے سلام علیک کیا کرتا تھا، یہ تو پتھر کا حال ہوا اور باوجود انسان ہونے کے قریش کا حال تو معلوم ہے کہ وہ معجزے دیکھ کر بھی آپ کی نبوت میں طرح طرح کے شبہات نکالتے تھے غرض پتھر میں انسان سے زیادہ سمجھ کا پیدا کردینا اللہ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اب آگے فرمایا کہ قرآن میں یہ مثالیں اس لیے بیان کی جاتی ہیں کہ شاید یہ بےحکم لوگ کچھ مثالوں سے ہی سمجھنے کی بات کو کچھ سمجھ جاویں تو ان کی عقبی پاک ہوجائے۔ صفات باری تعالی۔ آگے فرمایا کہ اللہ کی وہ ذات ہے کہ اس کے سوائے کوئی معبود نہیں کسی کو استحقاق عبودیت نہیں غیب وشہادت کا عالم ہے ، غیب وہ باتیں جو آئندہ ہوں گی اور وہ بندوں سے غائب ہیں ، شہادت جو ہوچکیں اور بندوں کو معلوم ہیں ، وہ رحمن، ورحیم، ہے رحمن یعنی سب بندوں پر خواہ عابد ہوں خواہ عاصی ، خواہ مسلمان ہوں خواہ کافر، سب پر رحمت عامہ والا ہے رزق دینے والا، رحیم، خاص مسلمانوں پر مخصوص نعمتیں اتارنے والا، ثواب وجنت دینے والا وہی خدا ہے جس کے سوا کسی کو استحقاق عبودیت نہیں وہ بادشاہ ہے کہ ازل سے ابدتک اس کے ملک اس کی بادشاہت کو زوال نہیں وہ قدوس ہے ظاہر ہے ہر آفت سے منزہ ولد وشریک سے برتر۔ وہ سلام ہے مسلمانون پر کہ عذاب سے سلامت رکھنے والا، مومن ہے مخلوق کو اپنے ظلم سے امان دینے والا ہے یا بندوں کے اعمال پر امانت دار ہے یا یہ کہ امان والا ہے اپنی مقدورات پر یعنی اس کی قدرت میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا، حافظ ہے، گواہ ہے ، عزیز ہے یعنی غالب اور بدلہ لینے والا ہے حکومت والا ہے جبار ہے یعنی جو چاہے کرنے والا ہر بات پر بندوں پر غلبہ والامتکبر ہے عظمت وکبریاوالا ہے۔ دشمنوں پر اپنے قہر و حکومت کا ظاہر کرنے والا ہے۔ آگے فرمایا کہ وہ بتوں کی اور جھوٹے معبودوں کی شرکت سے پاک ہے مشرکوں کے حقیر بےہودہ خیالات سے اسکامنصب عزت و جلال بلند ہے آگے فرمایا کہ اللہ وہ پیدا کرنے والا ہے الباری، ہے عدم سے وجود میں لانے والا ہے ، باپوں کی پشتوں میں نطفوں کو پیدا کرتا ہے پھر درجہ بدرجہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف بدلتا ہے پھر بدن میں روح ڈالتا ہے، المصور ہے یعنی نطفہ کی ماں کے شکم میں صورت گری کرتا ہے جیسا چاہتا ہے مرد عورت، لمبا ٹھنگنا، کالاگورا، بناتا ہے ، اللہ تعایل کے پاک نام اور اچھی صفتیں ہیں حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک کم سو نام ہیں ، جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ہرچیز اپنے خالق کی مداح سرا ہے۔ آگے فرمایا کہ آسمان وزمینوں میں جو چیز ہے وہ اس کی یاد کرتی ہے تسبیح کہتی ہیے اور ہر شے کی زندگی اس کے لائق ہے سورة بنی اسرائیل اور سورة حدید میں گذرچکا ہے کہ پہاڑ پیڑ ان سب بےجان چیزوں کی ایک طرح کی خاص تسبیح ہے جو انسان کی سمجھ سے باہر ہے ہاں اکثر سلف نے اپنے کانوں سے اس تسبیح کی آواز سنی ہے ۔ چناچہ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جو کھانا ہم کھایا کرتے تھے اس کی تسبیح کی آواز ہمارے کانوں میں آیا کرتی تھی، اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں آگے فرمایا کہ وہ العزیز ہے ، غالب ہے بدلہ لینے والا ہے ، الحکیم ہے اپنے احکام قضا وقدر میں لاکھوں حکمتوں والا ہے اس کا یہ حکم محکم ہے کہ سوائے اس کے کسی کی عبادت نہ کی جائے۔ مسند امام احمد اور ترمذی میں مغفل بن یسار سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص تین دفعہ ، اعوذ بااللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم، پڑھ کر ھواللہ الذی لا الہ الاھو، علم الغیب والشھادۃ سے آخر سورت تک تین دفعہ صبح وشام پڑھے گا تو اس شبانہ روز میں اگر وہ شخص مرے گا تو اس کو شہادت کا درجہ ملے گا اور سترہزار فرشتے اس شبانہ روز میں اس شخص کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہیں گے۔
Top