Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Mulk : 7
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ
اِذَآ اُلْقُوْا : جب وہ ڈالیں جائیں گے فِيْهَا : اس میں سَمِعُوْا : سنیں گے لَهَا : واسطے اس کے شَهِيْقًا : چلانا وَّهِىَ تَفُوْرُ : اور وہ جوش کھارہی ہوگی
جب یہ لوگ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کی زور دار آواز سنیں اور وہ جوش مار رہی ہوگی
1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت سمعو الہا شہیقا اس کے شور کی آواز سنیں گے۔ یعنی چیخنے کی آواز۔ 2۔ عبد بن یحییٰ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا تو آگ سکڑ جائے گی اور اس کے بعض حصے بعض حصوں میں منقبض ہوجائی گے تو رحمن اس سے فرمائیں گے تجھ کو کیا ہوا وہ کہے گی کہ وہ مجھ سے شرماتا تھا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے کو چھوڑدو۔ اور فرمایا کہ ایک بندے کو آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا اور وہ کہے گا اے میرے رب میرا آپ کے ساتھ یہ گمان نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرا کیا گمان تھا۔ ؟ وہ کہے گا میرا گمان یہ تھا کہ تیری رحمت مجھے ڈھانپ لے گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے بندے کو چھوڑدو پھر فرمایا ایک آدمی آگ کی طرف گھسیٹا جائے گا۔ تو وہ آگ اس کی طرف چیختے ہوئے آئے گی۔ خچر کے چیخنے کی طرح جو کی طرف۔ پھر وہ شدید آواز نکالے گی تو کوئی باقی نہیں رہے گا مگر وہ خوف زدہ ہوجائے گی۔ 3۔ ہناد وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا وہی تفور اور وہ جوش مارتی ہوگی یعنی جہنم ان کے ساتھ اس طرح جوش مارے گی۔ جیسے تھوڑے سے دانے جوش مارتے ہیں بہت پانی میں۔
Top