Fahm-ul-Quran - Al-Mulk : 7
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ
اِذَآ اُلْقُوْا : جب وہ ڈالیں جائیں گے فِيْهَا : اس میں سَمِعُوْا : سنیں گے لَهَا : واسطے اس کے شَهِيْقًا : چلانا وَّهِىَ تَفُوْرُ : اور وہ جوش کھارہی ہوگی
جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی
اِذَ ٓا اُلْقُوْا فِیْھَا سَمِعُوْا لَھَا شَھِیْـقًا وَّھِیَ تَفُوْرْ ۔ (الملک : 7) (جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی۔ ) شَھِیْق کے مفہوم کی وضاحت یہ کافر لوگ جو قیامت کا انکار کرتے تھے جب اپنے کفر و شرک کے باعث جہنم میں پھینکے جائیں گے تو انھیں دیکھ کر جہنم دھاڑے گی۔ آیت میں شَھِیْـقکا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اہل لغت کے نزدیک گدھے کی آواز جیسی آواز کو بھی کہتے ہیں اور شیر کی دھاڑ کو بھی۔ ہماری محاوراتی زبان میں ہیبت کے اظہار کے لیے شیر کی دھاڑ کا ذکر کیا جاتا ہے، گدھے کی آواز کا نہیں۔ گدھے کی آواز کراہت اور شور کا استعارہ ہے۔ لیکن جب کسی آواز سے ڈرانا اور ہیبت دلانا مقصود ہو یا اس کی عظمت اجاگر کرنا پیش نظر ہو تو پھر شیر کی دھاڑ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مولانا ظفرعلی خان کا شعر ہے : میں شیر ہوں جو دھاڑتا ہوں کچھار میں بلی نہیں جو گھر ہی میں کرتی ہو میائوں میائوں اس لیے مفادِکلام کا تقاضا یہ ہے کہ شَھِیْـق سے شیر کی دھاڑ مراد لی جائے۔ یعنی جہنم انھیں دیکھ کر اس طرح جوش و غضب کا اظہار کرے گی جیسے شیر اپنے شکار کو دیکھ کر دھاڑتا ہے۔ اگلا جملہ اسی کا بیان معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کی دھاڑ سن کر محسوس ہوگا کہ جہنم جوش مار رہی ہے اور اس کا جوش و غضب اپنے پورے شباب پر ہے۔
Top