Tafseer-e-Haqqani - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
پھر کیا تم نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے تم کو نکما پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم کو ہمارے پاس پھر کر نہیں آنا ہے۔
افحسبتم انما خلقناکم عبثا الخ یہاں سے ایک تحدید آمیز کلام شروع فرماتا ہے اور اس میں قیامت قائم ہونے پر دلائل بھی ذکر کرتا ہے کہ اگر قیامت قائم نہ ہو تو نیک و بد کو کامل سزاء وجزا نہ ملے۔ پھر نہ نیکی مطلوب ہو اور نہ بدی سے نفرت ہو جس سے لازم آوے کہ انسان عبث پیدا کیا گیا ہے اس پر کوئی مطالبہ الٰہی نہیں اس لیے فرماتا ہے کہ کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تم کو بیکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم پھر ہمارے پاس نہ آئوگے فتعالی اللہ الخ اللہ اس بات سے پاک ہے کہ وہ عبث پیدا کرے مگر اس سے یہ بھی نہ سمجھ لو کہ وہ ہمارا حاجت مند ہے کیونکہ الملک الحق وہ بادشاہِ بےنیاز ہے ‘ اس کی بادشاہی ثابت اور قائم ہے کبھی زائل نہ ہوگی۔ لا الہ الا ہے وہ اکیلا ہے اور وہ بادشاہ عرش یعنی تخت کریم ذی عزت کا مالک ہے۔ عرش سے مراد بعض کے نزدیک ساتوں آسمان ہیں بعض کے نزدیک حقیقۃً عرش لا الہ کے بعد یہ فرماتا ہے کہ من یدع جس نے اور معبود کو پکارا بغیر دلیل (اور دلیل تو ہے نہیں) تو اس کا حساب خاص ہم لیں گے۔ ابدی عذاب کی سزا دیں گے کافروں کو فلاح نہ ہوگی۔ سورة کا ابتدا قد افلح المومنون سے اور خاتمہ انہ لایفلح الکافرون سے کرنا عجب لطف کلام میں پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو دعاء وثناء کی تعلیم کر کے کلام کو کس خوبی سے تمام کرتا ہے قل رب اغفروارحم و انت خیرالراحمین۔
Top