Maarif-ul-Quran - Al-Muminoon : 118
وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠   ۧ
وَقُلْ : اور آپ کہیں رَّبِّ : اے میرے رب اغْفِرْ : بخش دے وَارْحَمْ : اور رحم فرما وَاَنْتَ : اور تو خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ : بہترین رحم کرنے والا ہے
اور تو کہہ اے رب معاف کر اور رحم کر اور تو ہے بہتر سب رحم والوں سے۔
رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ یہاں اغفر اور ارحم دونوں کا مفعول ذکر نہیں کیا گیا کہ کیا معاف کریں اور کس چیز پر رحم کریں اس سے اشارہ عموم کی طرف ہے کہ دعاء مغفرت شامل ہے ہر مضر اور تکلیف دہ چیز کے ازالہ کو اور دعا رحمت شامل ہے ہر مراد اور محبوب چیز کے حاصل ہونے کو۔ کیونکہ دفع مضرت اور جلب منفعت جو انسانی زندگی اور اس کے مقاصد کا خلاصہ ہیں دونوں اس میں شامل ہوگئے (مظھری) اور رسول اللہ ﷺ کو دعا مغفرت و رحمت کی تلقین باوجودیکہ آپ معصوم اور مرحوم ہی ہیں دراصل امت کو سکھانے کیلئے ہے کہ تمہیں اس دعا کا کتنا اہتمام کرنا چاہئے (قرطبی)
اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ، سورة مومنون کی ابتدا قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤ ْمِنُوْنَ سے ہوئی تھی اور انتہا لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ پر کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ فلاح یعنی مکمل کامیابی مومنین ہی کا حصہ ہے کفار اس سے محروم ہیں۔
تمت سورة المومنون فی ثمانیة ایام من اول المحرم 1391 ھ وذلک فی یوم عاشوراء یوم الاثنین وللہ الحمد اولہ واخرہ وایاہ اسال التوفیق لاتمام الباقی کما یحب و یرضاہ وان یتقبل منی و یجعلہ ذخرا لاخرتی و ھو المستعان۔
Top