Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 56
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائی میں بَلْ : بلکہ لَّا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور (سمجھ) نہیں رکھتے
سو ان لوگوں نے الگ الگ طریقہ اختیار کر کے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ہر جماعت کے لوگ اس سے خوش ہیں جو ان کے پاس ہے
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ کے بارے میں روایت کیا کہ زبرا سے مراد کتابیں ہیں اور حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کردئیے ان میں تحریف اور تبدیلی کردی۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ میں زبر سے مراد ہے اللہ کی کتابیں اور انہوں نے کتابوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ” کل حزب “ میں حزب کا معنی ہے ٹکڑا اور یہ اہل کتاب تھے۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فتقطعوا امرہم بینہم زبرا “ سے وہ اختلاف مراد ہے جو انہوں نے دنیا میں اختلاف کیا (اور مختلف دین نکالے) آیت ” کل حزب “ حزب سے مراد جماعت ہے آیت ” بما لدیہم فرحون “ یعنی وہ اپنی رائے پر خوش تھے۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وان جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فذرہم فی غمرتہم “ سے مراد ہے کہ آپ ان کو ان کی گمراہی میں چھوڑدیجئے۔ 5۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فذرہم فی غمرتہم “ یعنی ان کی گمراہی میں (ان کو چھوڑد یجئے) آیت ” حتی حین “ یعنی موت تک۔ 6۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فذہم فی غمرتہم حتی حین “ یعنی بدر کے دن تک (ان کو چھوڑ دیجئے )
Top