Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 56
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائی میں بَلْ : بلکہ لَّا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور (سمجھ) نہیں رکھتے
وہ کوئی ان کے لیے بھلائیوں میں جلدی کر رہے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے اصل حقیقت کا۔2
75 منکرین کے لیے ان کا مال ودولت کوئی خیر کی چیز نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کو جو ان کے مال واولاد میں بڑھاوا دے رہے ہیں کیا اس سے ہم ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ [ نہیں اور ہرگز نہیں ] بلکہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے اصل حقیقت کا۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکر لوگ اصل حقیقت کے احساس و شعور سے عاری اور محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ شعور نہیں رکھتے حق اور حقیقت کا۔ اور اپنے سود و زیاں اور نفع و نقصان کا۔ اور یہ لوگ جانتے نہیں کہ یہ امہال و استدارج ہے جس کا نتیجہ و انجام دائمی تباہی اور ابدی خسران ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر یہ ہیں کہ استدراج کے اس پھندے کو اپنے لیے انعام کا تمغہ سمجھتے ہیں اور اس سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے الٹا اپنی گردنیں اس کیلئے اور بڑھائے جارہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے امہال خداوندی اور اس کی چال کا کہ وہ بڑی ہی سخت اور انتہائی مضبوط ہوتی ہے۔ اس قدر کہ اس کا سمجھنا بھی ایسے لوگوں کے بس میں نہیں رہتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح فرمائی گئی ۔ { سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُوْنَ وَاُمْلِیْ لَہُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ} ۔ (القلم :44-45) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top