Urwatul-Wusqaa - Al-Muminoon : 56
نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ
نُسَارِعُ : ہم جلدی کر رہے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے فِي الْخَيْرٰتِ : بھلائی میں بَلْ : بلکہ لَّا يَشْعُرُوْنَ : وہ شعور (سمجھ) نہیں رکھتے
کہ وہ بھلائی پہنچانے میں سرگرمی دکھائیں ؟ نہیں وہ شعور نہیں رکھتے
56۔ فرمایا یہ بھلائیاں جو ہم ان کو پہنچا رہے ہیں تو یہ اس لئے نہیں ہیں کہ ہمارا قانون مجازات معطل ہوگیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بدعملیوں پر بھی انہیں فوائد سے بہرہ اندوز کریں ۔ یہ محض اس لئے پہنچائی جا رہی ہیں کہ ان کا مقررہ وقت ابھی آیا نہیں اور ان کا اختیار ہم سلب نہیں کرنا چاہتے ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہاں ہر نتیجہ کے لئے ایک اجل مسمی کا قانون کام کر رہا ہے اور ہم اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتے اور اس میں کتنی حکمتیں پوشیدہ ہیں ان ہی حکمتوں کے پیش نظر گمراہ اور بدکردار لوگوں کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی جاتی ہے ، گمراہی اور بدکرداری کے باوجود ان کا کاروبار خوب چمکتا ہے ‘ جاہ ومال میں اضافہ ہوتا ہے ‘ رہنے کے لئے خوشنما بنگلے ‘ سواری کے لئے بہترین کاریں میسر ہوتی ہیں تو وہ ان غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ شاید وہ بڑے اچھے کام کر رہے ہیں اسی لئے تو ان پر اللہ تعالیٰ اتنا مہربان ہے ۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ دراصل حقیقت حال سے بیخبر ہیں ، یہ دولت کی کثرت اور جاہ و جلال میں ترقی محض اس لئے ہے کہ ان کو ایک طویل اور کٹھن آزمائش میں مبتلا کردیا جائے اگر انہیں کچھ عقل ہوتی تو وہ اپنے دامن پر گناہوں کے بدنما داغ دیکھ کر شرما جاتے ‘ ان کے وہ ہاتھ جو بےگناہوں کے خون سے رنگین ہیں کیا انہیں بتا نہیں رہے کہ تم مجرم ہو ؟ تم ظالم اور سفاک ہو ؟ تم اس قابل نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی چشم لطف و احسان تمہاری طرف مائل ہو اور اس میں دیکھنے والوں کے لئے بھی عبرت ہے کہ دولت کی قلت جس طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں اسی طرح دولت کی کثرت اس کی رضا مندی کی بھی دلیل نہیں ۔ اصل چیز عقیدہ ونظریہ اور عمل کی صحت ہے جو اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی سنوار دینے والی چیز ہیں ‘ کاش کہ آج مسلمان بھی اس حقیقت کو سمجھتے ہوتے جن کو یہ درس دراصل دیا گیا تھا ۔
Top