Tafseer-e-Madani - Ash-Shura : 34
اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘
اَوْ يُوْبِقْهُنَّ : یا ہلاک کردے ان کو بِمَا كَسَبُوْا : بوجہ اس کے جو انہوں نے کمائی کی وَيَعْفُ : اور وہ معاف کردیتا ہے۔ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
یا وہ ہلاک کر دے ان (پر سوار ہونے والوں) کو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں اور بہتوں سے وہ درگزر فرماتا ہے3
78 نعمت اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم کا نتیجہ وثمرہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر نعمت کا وجود اور نعمت کا نعمت ہونا اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم پر موقوف ہے۔ ورنہ نعمت بھی ہلاکت کا سبب اور عذاب کا ذریعہ اور باعث بن جاتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " یا وہ غرق کر دے ان کو ان لوگوں کی کمائی کی بنا پر "۔ اور جو جو رنگ رلیاں یہ لوگ جہاز کے اندر کرتے اور مناتے ہیں ان کا مزہ ان کو اس طرح فوری چکھا دے۔ مگر یہ اس کریم مطلق اور حلیم مطلق کے بےپایاں حلم و کرم کا نتیجہ ہے کہ ان لوگوں کو چھوٹ پر چھوٹ ملتی جاتی ہے اور وہ اپنے عفو و درگزر اور جود و سخا اور بخشش و عطا ہی سے کام لیتا جاتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " جس طرح وہ مالک کل، قادر مطلق اس پر قادر ہے کہ ہوا کو روک کر ان جہازوں کو سمندروں کی سطح پر ہی ساکن کر دے، اسی طرح وہ اس پر بھی قادر ہے کہ انکے مسافروں کو انکے اعمال کی پاداش میں غرق کر دے۔ اور چاہے تو ان میں سے بہتوں کے گناہوں سے اس طرح درگزر فرما دے کہ وہ بھنور سے نکل کر بخیریت ساحل پر پہنچ جائیں۔ سو ان تینوں میں سے ہر بات اس کے اختیار میں ہے۔ اس لیے اس دنیا میں کسی کیلئے بھی یہ بات جائز نہیں کہ وہ اپنی کسی کامیابی پر مست و مغرور ہو کر اترانے لگے۔ بلکہ اس کو یہ طریقہ اپنانا چاہیئے کہ کامیابی کی صورت میں اپنے رب کیلئے سراپا سپاس بن کر دل و جان سے اس کے حضور جھک جائے۔ اور اگر اس کے برعکس خدانخواستہ کوئی افتاد پیش آجائے تو اس کو اپنی کسی کوتاہی کا نتیجہ قرار دے کر صبر و برداشت سے کام لے۔ اپنے رب سے معافی مانگے اور اس سے خیر کی توقع اور امید رکھے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ اہم اور بنیادی درس بھی ملتا ہے کہ نعمت کا نعمت ہونا اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم اور اسی کی توفیق و عنایت پر موقوف ہے۔ ورنہ نعمت بھی نقمت اور عذاب بن جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Top