Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 34
اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘
اَوْ يُوْبِقْهُنَّ : یا ہلاک کردے ان کو بِمَا كَسَبُوْا : بوجہ اس کے جو انہوں نے کمائی کی وَيَعْفُ : اور وہ معاف کردیتا ہے۔ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
(یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ) ان کی بد اعمالیوں (بےاحتیاطیوں) کے باعث ان کے جہازوں کو تباہ کر دے اور بہت سے لوگوں سے وہ درگزر ہی کرتا ہے
34 ؎ جس طرح ہوا کا ساکن ہوجانا انسان کے لیے ضرر رساں ہے اسی طرح اگر وہ تیز و تند ہوا کو بھیج دے تو پھر کیا ہو ؟ ظاہر ہے کہ ہلاکت ہی ہو گویا ہوا کا رک جانا ہلاکت اور ہوا کا تندو تیز ہوجانا بھی ہلاکت۔ بلاشبہ انسان نے سٹیم ، بجلی اور ایٹمی توانائی حاصل کرلی ہے لیکن جب امر الٰہی کسی چیز کو ہلاک کرنا چاہے تو کیا ان چیزوں کی طاقت ہے کہ اس کو تباہی سے بچا لیں بلکہ حقیقت آج بھی یہی ہے کہ یہ ساری چیزیں جس طرح حفاظت و نگہبانی کر رہی ہیں اسی طرح وہ ایک چیز کی ہلاکت کا باعث بھی ہو سکتی ہیں کیا اڑتے ہوئے جہاز کریش (Ccash) نہیں ہوتے اور کیا بحری جہاز چلتے چلتے غرق نہیں ہوجاتے۔ آخر وہ کونسی طاقت ہے جو باعث مزاحمت ہوجاتی ہے ؟ انسان ذرا غور و فکر کرے تو اس کو سب کچھ یاد آجائے کتنی بار یہ دیکھا گیا ہے کہ وہی غذا جو انسان کی زندگی کا باعث ہے اور اس کے جسم کو طاقت بہم پنچاتی ہے بعض اوقات وہی غذا انسان کے لیے جان لیوا ثابت ہوجاتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہی ہے کہ اس نے یہ سارا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جب وہ اس کو ختم کرنا چاہے تو آن کی آن میں کچھ سے کچھ ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہی سواری جو انسان کو پچاس ، سو اور ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لے جا رہی ہوتی ہے جب تک وہ چاہتا ہے معاملہ چلتا رہتا ہے اور جب وہ روکنا چاہے تو اس کو ذرا بھی دیر نہیں لگتی بہرحال انسان مانے یا نہ مانے جو کچھ ہے وہ اسی کے فضل و کرم سے ہے ؎ سمندر ان کے ، جہاز ان کے ، ہوائیں ان کی ، فضائیں ان کی گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر ، گرہ ہے تقدیر کا بہانہ
Top