Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 34
اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘
اَوْ يُوْبِقْهُنَّ : یا ہلاک کردے ان کو بِمَا كَسَبُوْا : بوجہ اس کے جو انہوں نے کمائی کی وَيَعْفُ : اور وہ معاف کردیتا ہے۔ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کردے۔ اور بہت سے قصور معاف کردے
او یوبقھن بما کسبوا ویعف عن کثیر یا (اگر اللہ چاہے تو) جہازوں کو ان کے (بد) اعمال کی وجہ سے تباہ کر دے اور (ان میں) بہت سے آدمیوں سے درگذر کر جائے۔ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ جہاز جو سمندر میں چلتے ہیں۔ کَالْاَعْلاَمِ ایسے جہاز جو پہاڑوں کی طرح (دکھائی دیتے) ہیں۔ رَوَاکِدَا رکے ہوئے۔ عَلٰی ظَھْرِہٖ سمندر کی پشت پر (یعنی سطح پر) صَبَّارٍ شَکُوْرٍ یعنی مؤمن کیلئے۔ مصیبت اور سختی پر صبر اور راحت و آسائش کے وقت شکر مؤمن کا شیوہ ہے ‘ اسلئے صبار شکور سے مؤمن مراد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایمان کے دو حصے ہیں ‘ آدھا صبر میں ہے اور آدھا شکر میں ‘ رواہ البیہقی فی شعب الایمان عن انس۔ اَوْیُوْبِقْھُنَّ یا جہازوں کو تباہ کر دے ‘ اس جملہ کا عطف فَیَظْلَلْنَ پر ہے ‘ یا اِنْ یَّشَایُسْکِنِ الرِّیْحَ پر ‘ یعنی ہوا کو روک دے اور روکے رہے کہ جہازوں کے مسافر ہلاک ہوجائیں ‘ جہاز ڈوب جائیں۔ بعض نے کہا : یسکن الریح پر عطف ہے ‘ یعنی اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے اور جہاز کھڑے کھڑے رہ جائیں ‘ یا طوفان پیدا کر دے اور جہازوں کو ڈبو دے۔ وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْر یہ جملہ معترضہ ہے ‘ یعنی بہت آدمیوں سے درگذر کرے اور ان کو بچا لے۔ یا یہ جملہ معطوفہ ہے ‘ سابق کلام پر اس کا عطف ہے ‘ یعنی اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے کہ جہاز کھڑے رہ جائیں یا طوفان بھیج دے کہ جہاز تباہ ہوجائیں اور آدمی ڈوب جائیں ‘ یا موافق ہوائیں چلاتا رہے ‘ اور کثیر لوگوں سے درگذر فرمائے۔
Top