Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Madani - An-Nahl : 34
وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ
: اور جن لوگوں نے
تَبَوَّؤُ
: انہوں نے قرار پکڑا
الدَّارَ
: اس گھر
وَالْاِيْمَانَ
: اور ایمان
مِنْ قَبْلِهِمْ
: ان سے پہلے
يُحِبُّوْنَ
: وہ محبت کرتے ہیں
مَنْ هَاجَرَ
: جس نے ہجرت کی
اِلَيْهِمْ
: ان کی طرف
وَلَا يَجِدُوْنَ
: اور وہ نہیں پاتے
فِيْ
: میں
صُدُوْرِهِمْ
: اپنے سینوں (دلوں)
حَاجَةً
: کوئی حاجت
مِّمَّآ
: اس کی
اُوْتُوْا
: دیا گیا انہیں
وَيُؤْثِرُوْنَ
: اور وہ اختیار کرتے ہیں
عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ
: اپنی جانوں پر
وَلَوْ كَانَ
: اور خواہ ہو
بِهِمْ خَصَاصَةٌ ڵ
: انہیں تنگی
وَمَنْ يُّوْقَ
: اور جس نے بچایا
شُحَّ نَفْسِهٖ
: بخل سے اپنی ذات کو
فَاُولٰٓئِكَ
: تو یہی لوگ
هُمُ
: وہ
الْمُفْلِحُوْنَ
: فلاح پانے والے
نیز (یہ مال حق ہے) ان لوگوں کا جنہوں نے قرار پکڑلیا ان سے پہلے (ہجرت اور امن و سلامتی کے) اس گھر میں اور وہ پختہ کار ہوگئے اپنے ایمان (و یقین) میں وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں اور یہ اپنے دلوں میں کوئی خلش (اور تنگی) نہیں پاتے اس سے جو کچھ کہ ان کو دیا جائے اور (اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ) وہ ان کو اپنی جانوں پر بھی ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ان کو سخت محتاجی ہو اور حقیقت یہ ہے جو کوئی اپنے نفس کی تنگی سے بچالیا گیا تو (وہ کامیاب ہوگیا کہ) ایسے ہی لوگ کامیابی پانے والے ہوتے ہیں
[ 26] مال " فئی " کا دوسرا مصرف حضرات انصار ؓ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز یہ مال حق ہے ان لوگوں کو جنہوں نے جگہ پکڑی ایمان و سلامتی کے اس گھر میں اور وہ پختہ کار ہوگئے اپنے ایمان و یقین میں۔ سو یہ ترکیب " علفتھا تبنا ومائً باردًا " کے قبیل سے ہے، جہاں ایک فعل کو محذوفس کردیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے مناسب فعل سے سمجھ میں آجاتا ہے، جیسے اس مثال میں " علفتھا " کے بعد اس پر معطوف فعل " وسقی تھا " محذوف ہے، اسی طرح یہاں پر " تبوء والدار " کے بعد احکمو الایمان یا اس جیسا کوئی فعل محذوف و مقدر ہے، اور اس ارشاد ربانی کا اولین مصداق حضرات انصار ہیں، رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین، اور ان کے پاس آنے والے مہاجرین اولین بھی اسی میں داخل ہیں، سو ان سب حضرات کی فراخدلی اور سیر چشمی کی تحسین فرمائی گئی ہے کہ یہ حضرات اس بات سے تنگ نہیں ہوتے کہ ان کے پاس مہاجروں کے جو قافلے آتے ہیں، وہ ان کے عزائم میں حصہ دار بن جائیں گے، بلکہ یہ حضرات بڑی فراخدلی سے انکا خیر مقدم کرتے ہیں، اور یہی علامت و نشانی ہے سچے مسلمانوں کی۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ مال " فے " صرف مہاجرین ہی کا حق نہیں، بلکہ اس میں انصار کا بھی حق ہے جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ کے " دار الھجرت " اور " دارالاسلام " میں قرار پکڑ چکے تھے، اور انہوں نے اپنے ایمان و یقین کی دولت کو مضبوط اور مستحکم کردیا تھا۔ دین حق کے لئے صدق و اخلاص کی دولت سے وہ بھی سرشار تھے، رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ [ 27] حضرات صحابہ ؓ کی کشادہ ظرفی اور سیر چشمی کی تعریف و تحسین : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ لوگ اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی نہیں پاتے جو کہ ان کو دیا جائے۔ جیسا کہ یہاں اموال بنو نضیر صرف مہاجرین میں تقسیم کئے گئے، اور انصار میں سوائے تین حضرات کے اور کسی کو کچھ نہیں دیا گیا، تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، بلکہ اس کو بطیب خاطر منظور و قبول کیا، اور مزید یہ کہ حضرات مہاجرین کو انہوں نے اپنے اموال میں شریک کرلیا، [ الصفوۃ، المراغی، والمعارف وغیرہ ] " علیہم الرحمۃ والرضوان " بہرکیف فرمایا گیا کہ یہ حضرات نئے آنے والے مہاجرین سے محبت رکھتے ہیں، اور پوری فراخدلی سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں، اور ان کے دل اس بات سے تنگ نہیں ہوتے کہ مہاجرین کے ان قافلوں کے آنے سے جو مال ان کو ملنا چاہئے تھا وہ ان پر صرف ہو رہا ہے، یا اب بھی وہ اس میں حصے دار بن جائیں گے، بلکہ وہ نہایت فراخدلی اور سیرچشمی سے اپنی ضروریات پر ان کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں، اور جیسا کہ اوپر کے حاشیے میں عرض کیا گیا ہے کہ " من قبلہم " کی تصریح سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس میں انصار کے ساتھ مہاجرین اولین بھی شامل ہیں، تو اس طرح حضرت حق جل مجدہٗ کی طرف سے تعریف و تحسین کا یہ اعزاز بےمثال حضرات انصار و مہاجرین سب ہی کے لیے ہے، اور یہ امر واضح بھی ہے کہ بےمثال استاذ کے وہ بےمثال شاگرد سب ہی کشادہ ظرفی و سیر چشمی اور ایثار و قربانی کے ایسے بےمثال نمونے تھے۔ رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ [ 28] حضرات صحابہء کرام ؓ ایثار و قربانی کے اعلیٰ نمونے تھے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ان کو سخت محتاجی درپیش ہو۔ " خصاص البیت " سے ماخوذ ہے جو اس سوراخ کے لئے بولا جاتا ہے جو گھر کی لکڑیوں وغیرہ میں رہ جاتا ہے، اسی طرح چھاننی وغیرہ کے سوراخ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے [ مفردات راغب، تفسیر مراغی وغیرہ ] اس لئے یہ لفظ کنایہ ہے سخت ضرورت اور محتاجی سے، صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی فاقہ زدگی کا حال عرض کیا تو آپ ﷺ نے اپنے گھروں میں پیغام بھیجا کہ اس شخص کو کھانا کھلایا جائے، مگر وہاں سے کچھ نہ ملا، جب کسی گھر سے بھی کچھ نہ مل سکا تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہء کرام ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کون ہے جو آج اس شخص کی مہمانی کرے ؟ تو تو حضرت ابو طلحہ ؓ فوراً بولے کہ میں ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ ، چناچہ آپ ؓ اس شخص کو اپنے ساتھ لے کر جب گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے کہا یہ شخص حضور ﷺ کا مہمان ہے اس کی عزت کرنی ہے، مگر اس نے کہا ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے جو بمشکل بچوں کو پورا ہوسکے گا اور بس، تو آپ ؓ نے اسے سمجھایا کہ بچوں کو کسی طرح بھلا پھسلا کر سلا دینا اور اس کے بعد ہم اپنا کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیں گے، اور جب وہ کھانا شروع کر دے گا تو میں چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے اسے بجھا دوں گا، تاکہ مہمان کو ہماری حالت کا پتہ نہ چلنے پائے، اور وہ سیر کو کر کھانا کھالے، چناچہ انہوں نے ایسی ہی کیا، اور خود فاقہ میں رہ کر مہمان کو کھلا دیا، صبح جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کو بتایا کہ تمہارے بارے میں رات کو مجھ پر آیت کریمہ نازل ہوئی، سبحان اللّٰہ ! ایثار کتنی عظیم صفت ہے، جب کہ یہ ایمان و اخلاص کے ساتھ اور خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو، کہ ان حضرات کے اس ایثار کے نتیجے میں قرآن پاک کی آیت اتر کیئ، اور آخرت کے اجر وثواب کے علاوہ اس دنیا میں بھی قیامت تک ان کا ذکر خیر باقی رہ گیا، جبکہ اگر وہ دونوں خود کھاپی لیتے تو وہ اسی طرح ختم ہوجاتا جس طرح کہ ہم میں سے ہر ایک کا روزمرہ کا کھایا پیا ختم ہوجاتا ہے، اس کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی شان رحمت و رأفت کا بھی اندازہ بھی کیجئے کہ جب اپنے گھروں سے کچھ نہ مل سکا تو آپ نے اپنے صحابی کے یہاں سے اس کا انتظام کروایا، تاکہ آپ ﷺ کے حضور اپنی حاجت پیش کرنے والا خالی اور محروم نہ جائے۔ فصلوات اللّٰہ وسلامہٗ علیہ وعلیٰ صحابتہٖ الکرام ما تعاقب اللیالی والایام۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی سچی پکی محبت اور اتباع سرشار و سرفراز رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، جل جلالہٗ وعم نوالہٗ [ 29] فوزوفلاح سے سرفرازی کے ایک اہم اور آسان ذریعے اور وسیلے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نفس کی تنگی سے بچ جانا فوز و فلاح سے سرفرازی کی ضمانت اور اس کا ایک اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی نفس کی تنگی سے بچا لیا گیا تو وہ فلاح پا گیا۔ کیونکہ یہ نفس کی تنگی ہی ہے جو حرص اور بخل وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہو کر انسان کو طرح طرح کی حرام خوریوں اور حرام کاریوں میں مبتلا کردی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کے پا جو کچھ آئے وہ اس سب کو یونہی اڑا دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقوق واجبہ اور حوائج ضروریہ میں کوتاہی نہ کرے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو زکوٰۃ ادا کرتا، مہمانوں کی مہمان داری کرتا، اور مصیبتوں میں خرچ کرتا ہے، وہ " شُح " اور بخل سے بری ہے [ تفسیر المراغی وغیرہ ] سو اس ارشاد میں حضرات انصار و مہاجرین کے لئے فلاح کی بشارت بھی ہے، اور نفس انسانی کی ایک بڑی اور خطرناک بیماری کی نشاندہی بھی، " شح " کے معنی نفس کی تنگی اور حرص و آز اور طمع و لالچ کے ہیں، سو اس سے بچتے رہنے کی جو تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خطرناک داعیہ ہے۔ اگر انسان اس کو قابو میں نہ رکھ سکے تو یہ اس کی آخرت کو تباہ و برباد کردینے والی چیز ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس اس ارشاد ربانی کے ذریعے فوز و فلاح سے سرفرازی کے لئے ایک سہل ترین اور عظیم الشان نسخے کی تعلیم و تلقین فرما دی گئی، کہ انسان اپنے آپ کو نفس کی تنگی سے بچا لے اور بس، کیونکہ نفس کی تنگی ہی وہ چیز ہے جس سے انسان کے اندر حرص، کینہ، حسد، اور بغض وعناد جیسی تباہ کن باطنی بیماریاں پیدا ہوتی اور جنم لیتی ہیں جو انسانی معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔ اس لیے قرآن حکیم نے اس مقام پر اس برائی سے بچ جانے کو جنت کی ضمانت قرار دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس کو بدترین انسانی اوصاف میں شمار کیا ہے جو فساد و بگاڑ کی جڑ ہے۔ چناچہ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ " شح " اور لالچ سے بچ کر رہنا کہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک و برباد کیا ؟ اس نے ان کو ایک دوسرے کی خونریزیوں پر ابھارا، ان کی حرمتوں کو حلال کیا، [ مسلم، مسند احمد، بخاری فی الادب ] اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے ان کو ظلم کا حکم کیا تو انہوں نے ظلم کیا۔ اسی نے ان کو فسق و فجور کی تعلیم دی تو انہوں نے فسق و فجور کا ارتکاب کیا۔ اسی نے ان قطع رحم کا حکم دیا تو انہوں نے قطع رحم کیا، [ مسند احمد، ابوداؤد، نسائی ] وغیرہ وغیرہ، اللہ تعالیٰ شح نفس اور اس طرح کی دوسری تمام بری خصلتوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور محاسن اخلاق سے سرفراز مالا مال فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، اللّٰہم ! ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ سبحانہٗ و تعالیٰ ویاہ اسال القبول والسداد، ومزیداً من التوفیق لتکمیل ما بقی من التفسیر،
Top