Tafseer-e-Madani - An-Nahl : 34
وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور جن لوگوں نے تَبَوَّؤُ : انہوں نے قرار پکڑا الدَّارَ : اس گھر وَالْاِيْمَانَ : اور ایمان مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے يُحِبُّوْنَ : وہ محبت کرتے ہیں مَنْ هَاجَرَ : جس نے ہجرت کی اِلَيْهِمْ : ان کی طرف وَلَا يَجِدُوْنَ : اور وہ نہیں پاتے فِيْ : میں صُدُوْرِهِمْ : اپنے سینوں (دلوں) حَاجَةً : کوئی حاجت مِّمَّآ : اس کی اُوْتُوْا : دیا گیا انہیں وَيُؤْثِرُوْنَ : اور وہ اختیار کرتے ہیں عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ : اپنی جانوں پر وَلَوْ كَانَ : اور خواہ ہو بِهِمْ خَصَاصَةٌ ڵ : انہیں تنگی وَمَنْ يُّوْقَ : اور جس نے بچایا شُحَّ نَفْسِهٖ : بخل سے اپنی ذات کو فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ هُمُ : وہ الْمُفْلِحُوْنَ : فلاح پانے والے
نیز (یہ مال حق ہے) ان لوگوں کا جنہوں نے قرار پکڑلیا ان سے پہلے (ہجرت اور امن و سلامتی کے) اس گھر میں اور وہ پختہ کار ہوگئے اپنے ایمان (و یقین) میں وہ محبت کرتے ہیں ان سے جو ہجرت کر کے ان کے پاس آتے ہیں اور یہ اپنے دلوں میں کوئی خلش (اور تنگی) نہیں پاتے اس سے جو کچھ کہ ان کو دیا جائے اور (اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ) وہ ان کو اپنی جانوں پر بھی ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ان کو سخت محتاجی ہو اور حقیقت یہ ہے جو کوئی اپنے نفس کی تنگی سے بچالیا گیا تو (وہ کامیاب ہوگیا کہ) ایسے ہی لوگ کامیابی پانے والے ہوتے ہیں
[ 26] مال " فئی " کا دوسرا مصرف حضرات انصار ؓ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نیز یہ مال حق ہے ان لوگوں کو جنہوں نے جگہ پکڑی ایمان و سلامتی کے اس گھر میں اور وہ پختہ کار ہوگئے اپنے ایمان و یقین میں۔ سو یہ ترکیب " علفتھا تبنا ومائً باردًا " کے قبیل سے ہے، جہاں ایک فعل کو محذوفس کردیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے مناسب فعل سے سمجھ میں آجاتا ہے، جیسے اس مثال میں " علفتھا " کے بعد اس پر معطوف فعل " وسقی تھا " محذوف ہے، اسی طرح یہاں پر " تبوء والدار " کے بعد احکمو الایمان یا اس جیسا کوئی فعل محذوف و مقدر ہے، اور اس ارشاد ربانی کا اولین مصداق حضرات انصار ہیں، رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین، اور ان کے پاس آنے والے مہاجرین اولین بھی اسی میں داخل ہیں، سو ان سب حضرات کی فراخدلی اور سیر چشمی کی تحسین فرمائی گئی ہے کہ یہ حضرات اس بات سے تنگ نہیں ہوتے کہ ان کے پاس مہاجروں کے جو قافلے آتے ہیں، وہ ان کے عزائم میں حصہ دار بن جائیں گے، بلکہ یہ حضرات بڑی فراخدلی سے انکا خیر مقدم کرتے ہیں، اور یہی علامت و نشانی ہے سچے مسلمانوں کی۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ مال " فے " صرف مہاجرین ہی کا حق نہیں، بلکہ اس میں انصار کا بھی حق ہے جو مہاجرین کی آمد سے پہلے مدینہ کے " دار الھجرت " اور " دارالاسلام " میں قرار پکڑ چکے تھے، اور انہوں نے اپنے ایمان و یقین کی دولت کو مضبوط اور مستحکم کردیا تھا۔ دین حق کے لئے صدق و اخلاص کی دولت سے وہ بھی سرشار تھے، رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ [ 27] حضرات صحابہ ؓ کی کشادہ ظرفی اور سیر چشمی کی تعریف و تحسین : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ لوگ اپنے دلوں میں اس سے کوئی تنگی نہیں پاتے جو کہ ان کو دیا جائے۔ جیسا کہ یہاں اموال بنو نضیر صرف مہاجرین میں تقسیم کئے گئے، اور انصار میں سوائے تین حضرات کے اور کسی کو کچھ نہیں دیا گیا، تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا، بلکہ اس کو بطیب خاطر منظور و قبول کیا، اور مزید یہ کہ حضرات مہاجرین کو انہوں نے اپنے اموال میں شریک کرلیا، [ الصفوۃ، المراغی، والمعارف وغیرہ ] " علیہم الرحمۃ والرضوان " بہرکیف فرمایا گیا کہ یہ حضرات نئے آنے والے مہاجرین سے محبت رکھتے ہیں، اور پوری فراخدلی سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں، اور ان کے دل اس بات سے تنگ نہیں ہوتے کہ مہاجرین کے ان قافلوں کے آنے سے جو مال ان کو ملنا چاہئے تھا وہ ان پر صرف ہو رہا ہے، یا اب بھی وہ اس میں حصے دار بن جائیں گے، بلکہ وہ نہایت فراخدلی اور سیرچشمی سے اپنی ضروریات پر ان کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں، اور جیسا کہ اوپر کے حاشیے میں عرض کیا گیا ہے کہ " من قبلہم " کی تصریح سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس میں انصار کے ساتھ مہاجرین اولین بھی شامل ہیں، تو اس طرح حضرت حق جل مجدہٗ کی طرف سے تعریف و تحسین کا یہ اعزاز بےمثال حضرات انصار و مہاجرین سب ہی کے لیے ہے، اور یہ امر واضح بھی ہے کہ بےمثال استاذ کے وہ بےمثال شاگرد سب ہی کشادہ ظرفی و سیر چشمی اور ایثار و قربانی کے ایسے بےمثال نمونے تھے۔ رضوان اللّٰہ تعالیٰ علیہم اجمعین۔ [ 28] حضرات صحابہء کرام ؓ ایثار و قربانی کے اعلیٰ نمونے تھے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود ان کو سخت محتاجی درپیش ہو۔ " خصاص البیت " سے ماخوذ ہے جو اس سوراخ کے لئے بولا جاتا ہے جو گھر کی لکڑیوں وغیرہ میں رہ جاتا ہے، اسی طرح چھاننی وغیرہ کے سوراخ کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے [ مفردات راغب، تفسیر مراغی وغیرہ ] اس لئے یہ لفظ کنایہ ہے سخت ضرورت اور محتاجی سے، صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی فاقہ زدگی کا حال عرض کیا تو آپ ﷺ نے اپنے گھروں میں پیغام بھیجا کہ اس شخص کو کھانا کھلایا جائے، مگر وہاں سے کچھ نہ ملا، جب کسی گھر سے بھی کچھ نہ مل سکا تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہء کرام ؓ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ کون ہے جو آج اس شخص کی مہمانی کرے ؟ تو تو حضرت ابو طلحہ ؓ فوراً بولے کہ میں ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ ، چناچہ آپ ؓ اس شخص کو اپنے ساتھ لے کر جب گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے کہا یہ شخص حضور ﷺ کا مہمان ہے اس کی عزت کرنی ہے، مگر اس نے کہا ہمارے پاس تھوڑا سا کھانا ہے جو بمشکل بچوں کو پورا ہوسکے گا اور بس، تو آپ ؓ نے اسے سمجھایا کہ بچوں کو کسی طرح بھلا پھسلا کر سلا دینا اور اس کے بعد ہم اپنا کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیں گے، اور جب وہ کھانا شروع کر دے گا تو میں چراغ ٹھیک کرنے کے بہانے اسے بجھا دوں گا، تاکہ مہمان کو ہماری حالت کا پتہ نہ چلنے پائے، اور وہ سیر کو کر کھانا کھالے، چناچہ انہوں نے ایسی ہی کیا، اور خود فاقہ میں رہ کر مہمان کو کھلا دیا، صبح جب وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کو بتایا کہ تمہارے بارے میں رات کو مجھ پر آیت کریمہ نازل ہوئی، سبحان اللّٰہ ! ایثار کتنی عظیم صفت ہے، جب کہ یہ ایمان و اخلاص کے ساتھ اور خداوند قدوس کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو، کہ ان حضرات کے اس ایثار کے نتیجے میں قرآن پاک کی آیت اتر کیئ، اور آخرت کے اجر وثواب کے علاوہ اس دنیا میں بھی قیامت تک ان کا ذکر خیر باقی رہ گیا، جبکہ اگر وہ دونوں خود کھاپی لیتے تو وہ اسی طرح ختم ہوجاتا جس طرح کہ ہم میں سے ہر ایک کا روزمرہ کا کھایا پیا ختم ہوجاتا ہے، اس کے ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کی شان رحمت و رأفت کا بھی اندازہ بھی کیجئے کہ جب اپنے گھروں سے کچھ نہ مل سکا تو آپ نے اپنے صحابی کے یہاں سے اس کا انتظام کروایا، تاکہ آپ ﷺ کے حضور اپنی حاجت پیش کرنے والا خالی اور محروم نہ جائے۔ فصلوات اللّٰہ وسلامہٗ علیہ وعلیٰ صحابتہٖ الکرام ما تعاقب اللیالی والایام۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کی سچی پکی محبت اور اتباع سرشار و سرفراز رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، جل جلالہٗ وعم نوالہٗ [ 29] فوزوفلاح سے سرفرازی کے ایک اہم اور آسان ذریعے اور وسیلے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نفس کی تنگی سے بچ جانا فوز و فلاح سے سرفرازی کی ضمانت اور اس کا ایک اہم ذریعہ و وسیلہ ہے۔ وباللّٰہ التوفیق۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی نفس کی تنگی سے بچا لیا گیا تو وہ فلاح پا گیا۔ کیونکہ یہ نفس کی تنگی ہی ہے جو حرص اور بخل وغیرہ کی شکل میں ظاہر ہو کر انسان کو طرح طرح کی حرام خوریوں اور حرام کاریوں میں مبتلا کردی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان کے پا جو کچھ آئے وہ اس سب کو یونہی اڑا دے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حقوق واجبہ اور حوائج ضروریہ میں کوتاہی نہ کرے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو زکوٰۃ ادا کرتا، مہمانوں کی مہمان داری کرتا، اور مصیبتوں میں خرچ کرتا ہے، وہ " شُح " اور بخل سے بری ہے [ تفسیر المراغی وغیرہ ] سو اس ارشاد میں حضرات انصار و مہاجرین کے لئے فلاح کی بشارت بھی ہے، اور نفس انسانی کی ایک بڑی اور خطرناک بیماری کی نشاندہی بھی، " شح " کے معنی نفس کی تنگی اور حرص و آز اور طمع و لالچ کے ہیں، سو اس سے بچتے رہنے کی جو تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خطرناک داعیہ ہے۔ اگر انسان اس کو قابو میں نہ رکھ سکے تو یہ اس کی آخرت کو تباہ و برباد کردینے والی چیز ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ پس اس ارشاد ربانی کے ذریعے فوز و فلاح سے سرفرازی کے لئے ایک سہل ترین اور عظیم الشان نسخے کی تعلیم و تلقین فرما دی گئی، کہ انسان اپنے آپ کو نفس کی تنگی سے بچا لے اور بس، کیونکہ نفس کی تنگی ہی وہ چیز ہے جس سے انسان کے اندر حرص، کینہ، حسد، اور بغض وعناد جیسی تباہ کن باطنی بیماریاں پیدا ہوتی اور جنم لیتی ہیں جو انسانی معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہیں۔ اس لیے قرآن حکیم نے اس مقام پر اس برائی سے بچ جانے کو جنت کی ضمانت قرار دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے اس کو بدترین انسانی اوصاف میں شمار کیا ہے جو فساد و بگاڑ کی جڑ ہے۔ چناچہ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ " شح " اور لالچ سے بچ کر رہنا کہ اسی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک و برباد کیا ؟ اس نے ان کو ایک دوسرے کی خونریزیوں پر ابھارا، ان کی حرمتوں کو حلال کیا، [ مسلم، مسند احمد، بخاری فی الادب ] اور حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی روایت میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی نے ان کو ظلم کا حکم کیا تو انہوں نے ظلم کیا۔ اسی نے ان کو فسق و فجور کی تعلیم دی تو انہوں نے فسق و فجور کا ارتکاب کیا۔ اسی نے ان قطع رحم کا حکم دیا تو انہوں نے قطع رحم کیا، [ مسند احمد، ابوداؤد، نسائی ] وغیرہ وغیرہ، اللہ تعالیٰ شح نفس اور اس طرح کی دوسری تمام بری خصلتوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور محاسن اخلاق سے سرفراز مالا مال فرمائے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ، اللّٰہم ! ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم، وتب علینا انک انت التواب الرحیم، ویامن بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ سبحانہٗ و تعالیٰ ویاہ اسال القبول والسداد، ومزیداً من التوفیق لتکمیل ما بقی من التفسیر،
Top