Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 36
هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ
هَيْهَاتَ : بعید ہے هَيْهَاتَ : بعید ہے لِمَا : وہ جو تُوْعَدُوْنَ : تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے
جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (بہت) بعید اور (بہت) بعید ہے
کفار کا استبعادِ قیامت : 36: ھَیْہَاتَ ھَیْہَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ (بہت ہی بعید ہے اور بہت بعید جو بات تم سے کہی جارہی ہے) قراءت : یزید نے ھیھات تاؔ ء کے کسرہ اور تنوین سے پڑھا ہے اور کسائی نے ہائؔ پر وقف کیا جبکہ دیگر نے تائؔ پر وقف کیا۔ نحو : ھیھاتیہ اسم فعل ہے بعد کا معنی دیتا ہے اس کی فاعل مضمر ہے۔ ای بَعُدالتصدیق یابَعُد الوقوع۔ قیامت کی تصدیق بہت بعید ہے یا وقوع بہت بعید ہے۔ ماتوعدونؔ سے عذاب مراد ہے۔ یا اس کا فاعل ماتوعدون ہے اور لماؔ کی لامؔ زائدہ ہے ای بعد ماتوعدون من البعث بہت دور ہے وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے یعنی بعث۔
Top