بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Kashf-ur-Rahman - Aal-i-Imraan : 1
وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ
وَكُلًّا : اور ہر بات نَّقُصُّ : ہم بیان کرتے ہیں عَلَيْكَ : تجھ پر مِنْ : سے اَنْۢبَآءِ : خبریں (احوال) الرُّسُلِ : رسول (جمع) مَا نُثَبِّتُ : کہ ہم ثابت کریں (تسلی دیں) بِهٖ : اس سے فُؤَادَكَ : تیرا دل وَجَآءَكَ : اور تیرے پاس آیا فِيْ : میں هٰذِهِ : اس الْحَقُّ : حق وَمَوْعِظَةٌ : اور نصیحت وَّذِكْرٰي : اور یاد دہانی لِلْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں کے لیے
الم1
1 الم ( تیسیر) سورۂ بقرہ کی ابتداء میں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ حروف مقطعات ہیں اور ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو حضرات ا س کے معنی بیان کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کے مدعی نہیں اور جو اس کے معنی بیان کرنے سے انکار کرتے ہیں وہ حقیقی معنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے دونوں فریق میں محض لفظی نزاع کے علاوہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس کے حقیقی معنی سے آگاہ کردیا ہو۔ (تسہیل)
Top