Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 43
وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا
وَرَفَعْنَا : اور ہم نے بلند کیا فَوْقَھُمُ : ان کے اوپر الطُّوْرَ : طور بِمِيْثَاقِهِمْ : ان سے عہد لینے کی غرض سے وَقُلْنَا : اور ہم نے کہا لَهُمُ : ان کیلئے (ان سے) ادْخُلُوا : تم داخل ہو الْبَابَ : دروازہ سُجَّدًا : سجدہ کرتے وَّقُلْنَا : اور ہم نے کہا لَهُمْ : ان سے لَا تَعْدُوْا : نہ زیادتی کرو فِي : میں السَّبْتِ : ہفتہ کا دن وَاَخَذْنَا : اور ہم نے لیا مِنْهُمْ : ان سے مِّيْثَاقًا : عہد غَلِيْظًا : مضبوط
اور جو شخص صبر کرے اور معاف کردے، یہ البتہ بڑے ہمت کے کاموں میں سے ہے،48۔
48۔ یہاں سے یہ مسئلہ صاف ہوگیا کہ انتقام کی بھی جائز حدود کے اندر پوری اجازت اسلام میں ہے، لیکن اولی و افضل معاف ہی کردینا ہے۔ فطرت بشری کی کیسی ٹھیک ٹھیک اور پوری رعایت ہماری شریعت میں موجود ہے۔
Top