Tadabbur-e-Quran - At-Tawba : 43
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠   ۧ
وَلَمَنْ : اور البتہ جس نے صَبَرَ : صبر کیا وَغَفَرَ : اور معاف کردیا اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ : البتہ ہمت کے کاموں میں سے ہے
ور جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو بیشک یہ عزیمت کے اوصاف میں سے ہے
ولمن صبرو غفر ان ذلک لمن عزم الامور (43) خلاصہ بحث یہ آیت یہاں غلاصہ بحث کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے کئی باتیں واح ہوئیں۔ ایک یہ کہ اگرچہ تعدی کے بقدر اتنقام کا حق ہر شخص کو حاصل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسری یہ کہ یہ درگزر صرف وہی لوگ کرسکیں گے جن کے اندر صبر کی خصلت ہوگی۔ جن کے اندر یہ صفت نہیں ہے وہ یہ بازی نہیں کھیل سکیں گے۔ اس وجہ سے لوگوں کو اپنے اندر صبر کی صفت راسخ کرنی چاہئے۔ تیسری یہ کہ یہ کردار عزیمت کا کردار ہے۔ جو لوگ یہ کردار اپنے اندر پیدا کریں گے وہ ارباب عزیمت میں ہیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ ان باتوں کی طرف مسلمانوں کی رہنمائی ان حالات کے مقابلہ کے لئے کی گئی ہے جن سے وہ قریش کے ہاتھوں قرب ہجرت کے زمانے میں دوچار تھے اس وقت تک مسلمان نہ تو ایک منظم سیاسی طاقت بنے تھے اور نہ ابھی قریش پر دین کی حجت ہی پوری طرح تمام ہوئی تھی۔ ہجرت کے بعد جب مسلمان ایک منظم طاقت بن گئے اور قریش پر حجت تمام ہوگئی تو مسلمانوں کو من حیث الجماعت اللہ تعالیٰ کی طر سے یہ ہدایت ہوئی کہ اب مسلمان ان سے کلیتہ اپنے تمام روباط منقطع کرلیں اور اس وقت تک ان سے جنگ جاری رکھیں جب تک یہ اسلام کے آگے سپر نہ ڈال دیں۔
Top