Al-Qurtubi - Aal-i-Imraan : 187
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠   ۧ
وَلَمَنْ : اور البتہ جس نے صَبَرَ : صبر کیا وَغَفَرَ : اور معاف کردیا اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ : البتہ ہمت کے کاموں میں سے ہے
اور جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو یہ ہمت کے کام ہیں
مسئلہ نمبر 11 ۔ ولمن صبرو غفر یعنی جس نے تکلیف پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر بدلہ نہ لیا۔ یہ اس صورت میں ہے جب مسلمان نے اس پر ظلم کیا ہو۔ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کی مجلس میں ایک آدمی نے دوسرے کو گالیاں دیں جس آدمی کو گالیاں دی گئیں غصہ ضی رہا تھا اور اسے پسینہ آرہا تھا وہ اپنا پسینہ صاف کررہا تھا پھر وہ اٹھا اور اس آیت کی تلاوت کی۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ کی قسم ! اس نے اس آیت کو جانا اور سمجھا ‘ جب جاہل لوگوں نے اسے ضائع کیا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ معاف کرنا مستحب ہے بعض صورتوں میں معاملہ الٹ ہوجاتا ہے تو معافی کو ترک کرنا مستحب ہوجاتا ہے ج سطرح بحث پہلے گذرچ کی ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب سرکشی کی زیادتی کو روکنا اور تکلیف کے مادہ کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ‘ نبی کریم ﷺ سے بھی ایک روایت ایسی مروی ہے جو اسی معنی پر دال ہے روایت یہ ہے کہ حضرت زینب ؓ نے حضور ﷺ کی موجودگی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو برا بھلا کہا رسول اللہ ﷺ اسے روکا کرتے تو وہ نہ رکتیں (2) ۔ رسول اللہ ﷺ نے حضر تعائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا :” اس سے بدلہ لو “۔ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ معاصی سے صبر کرے اور برائیوں پر پر دہ ڈالے۔ ان ذلک لمن عزم الامر۔ یعنی یہ وہ امور ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ان درست امور میں سے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے۔ کلبی اور فراء نے ذکر کیا ہے : یہ آیت اور اس سے قبل کی تین آیات حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے حق میں نازل ہوئیں (1) کسی انصاری نے انہیں برا بھلا کہا تو آپ نے اسے جواب دیا پھر خاموشی اختیار کرلی۔ یہ آیات اس سورت کی مدنی آیات ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیات مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئیں یہ جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی تھیں پھر جہاد والی آیات نے انہیں منسوخ کردیا۔ یہ ابن زید کا قول ہے جو پہلے گذر چکا ہے۔ تفسیر ابن عباس میں ہے : ولمن انتصر بعد ظلمہ سے مراد حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ‘ حضرت عبیدہ ‘ حضرت علی اور تمام مہاجرین ہیں فاولئک ماعلیھم من سبیل۔ سے مراد حضرت حمزہ ‘ حضرت عبیدہ اور حضرت علی شیر خدا ؓ ہیں۔ انما السبیل علی الذین یظلمون الناس سے مراد عتبہ بنربیعہ ‘ شیعبہ بن ربیعہ ‘ ولید بن عتبہ ‘ ابو جہل اور اسود اور تمام وہ مشرک ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ ویبغون فی الارض اس سے مراد ظلم اور کفر ہے الیم سے مراد درد ناک عذاب ہے ولمن صبر وغفر اس سے مراد حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت ابو عبیدہ بن جرح ‘ حضرت مصعب بن عمیر اور تمام بدری صحابہ ہیں ان ذلک لمن عزم الامور۔ کیونکہ انہوں نے فدیہ کو قبول کیا اور تکلیفوں پر صبر کیا۔
Top