Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 43
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠   ۧ
وَلَمَنْ : اور البتہ جس نے صَبَرَ : صبر کیا وَغَفَرَ : اور معاف کردیا اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ : البتہ ہمت کے کاموں میں سے ہے
اور جو صبر کرے اور قصور معاف کردے تو یہ ہمت کے کام ہیں
ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور اور جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے (تو وہ افضل ہے) یہ البتہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ یعنی جس نے ظالم کے ظلم پر صبر کیا ‘ انتقام نہیں لیا ‘ معاف کردیا تو یہ صبر و عفو ان امور میں سے ہے جو شرعاً مطلوب ہیں۔ عزم بمعنی معزوم ہے اور معزوم کا مطلب ہے مطلوب ‘ مراد مطلوب شرعی ‘ ایسا آدمی افضل الناس ہے۔ زجاج نے کہا : صابر کو صبر کا ثواب دیا جائے گا اور ثواب کی طلب مکمل طلب ہے۔ مقاتل نے کہا : یعنی ان امور میں سے ہے جن کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
Top