Tafseer-e-Majidi - Al-Muminoon : 32
وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ
وَاِذْ : اور جب اَخَذَ : لیا اللّٰهُ : اللہ مِيْثَاقَ : عہد الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہیں اُوْتُوا الْكِتٰبَ : کتاب دی گئی لَتُبَيِّنُنَّهٗ : اسے ضرور بیان کردینا لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے وَ : اور لَاتَكْتُمُوْنَهٗ : نہ چھپانا اسے فَنَبَذُوْهُ : تو انہوں نے اسے پھینک دیا وَرَآءَ : پیچھے ظُهُوْرِھِمْ : اپنی پیٹھ (جمع) وَاشْتَرَوْا بِهٖ : حاصل کی اس کے بدلے ثَمَنًا : قیمت قَلِيْلًا : تھوڑی فَبِئْسَ مَا : تو کتنا برا ہے جو يَشْتَرُوْنَ : وہ خریدتے ہیں
پھر ہم نے ان کی طرف ایک پیغمبر کو انہیں میں سے بھیجا (یہ پیام دے کر) کہ اللہ ہی پرستش کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں سو کیا تم ڈرتے نہیں ہو،31۔
31۔ (شرک اور انجام شرک سے) (آیت) ” من بعدھم “۔ یعنی قوم نوح (علیہ السلام) کے بعد جس کا ذکر ابھی ہوچکا ہے۔ (آیت) ” قرنا اخرین “۔ یہ قوم کون سی تھی ؟ عام رجحان یہ ہے کہ یہ قوم عاد یا قوم ثمود کی جانب اشارہ ہے۔ بہرحال کوئی نہ کوئی مشرک ہی قوم تھی۔ (آیت) ” رسولا منھم “۔ سنت الہی یہی ہے کہ جس قوم کی ہدایت مقصود ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہادی خود اسی قوم میں سے بھیجا جاتا ہے۔ (آیت) ” ان ........ تتقون “۔ دعوت ہر نبی مرسل کی ہر زمانہ اور ہر ملک میں توحید ہی کی رہی ہے۔
Top