Mazhar-ul-Quran - Hud : 73
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
اَلَمْ : کیا نہیں تَرَ : آپ نے دیکھا اِلَى : طرف، کو الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہوں نے نَافَقُوْا : نفاق کیا، منافق يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں لِاِخْوَانِهِمُ : اپنے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے كَفَرُوْا : کفر کیا، کافر مِنْ : سے اَهْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب لَئِنْ : البتہ اگر اُخْرِجْتُمْ : تم نکالے گئے لَنَخْرُجَنَّ : تو ہم ضرور نکل جائیں گے مَعَكُمْ : تمہارے ساتھ وَلَا نُطِيْعُ : اور نہ مانیں گے فِيْكُمْ : تمہارے بارے میں اَحَدًا : کسی کا اَبَدًا ۙ : کبھی وَّاِنْ : اور اگر قُوْتِلْتُمْ : تم سے لڑائی ہوئی لَنَنْصُرَنَّكُمْ ۭ : توہم ضرور تمہاری مدد کریں گے وَاللّٰهُ : اور اللہ يَشْهَدُ : گواہی دیتا ہے اِنَّهُمْ : بیشک یہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
کیا تم نے1 منافقوں (یعنی عبداللہ بن ابی بن سلول وغیرہ) کو نہیں دیکھا کہ وہ اپنے بھائیوں سے جو اہل کتاب (یعنی یہود بنی قریظہ و بنی نضیر) میں سے کافر ہیں، کہتے ہیں خہ اگر تم (مدینہ سے) نکالے گئے تو ضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور ہرگز تمہارے بارے میں کسی کی نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔
صحابہ (اجمعین علیہم رضوان کرا) کو براکہنے والوں کا انجام۔ (ف 1) اللہ تعالیٰ نے تابعینوں کے ذکر میں فرمایا کہ قابل تعریف وہی تابعین ہیں جو صحابہ کو اپنا دینی بھائی سمجھ کر اپنی مغفرت کی دعا میں ان کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرتے ہیں پھر فرمایا اپنے بڑوں کی پچھلی حالت یاد کرکے بعض صحابہ کے حق میں خالص دل سے مغفرت کی دعا ان کی زبان پر نہ آئے تو ان کو یہ دعا بھی مانگنی چاہیے کہ یا اللہ پہلے لوگوں کی طرف سے ہمارے دل میں کچھ دشمنی اور بغض ہو تو اپنی مہربانی اور رحمت سے اس کو ہمارے دل سے نکال دے ، اس آیت میں نبی ﷺ کی نبوت کا اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا بڑاثبوت ہے کیونکہ آئندجن باتوں کا ذکر اس آیت میں تھا اسی طرح ان باتوں کا ظہور ہوا، یہی ثبوت ان صحیح حدیثوں میں بھی ہے جن میں اپنے آئندہ پیدا ہونے والے لوگوں کو صحابہ کی بدگوئی سے منع فرمایا ہے اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کے مضمون پر غور کرنے سے فرقہ شیعہ کے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جنہوں نے صحابہ کی برائی کو اپنامذہب قرار دے رکھا ہے۔ مسئلہ : جس کے دل میں کسی صحابی کی طرف سے بغض یاکدورت ہو اور وہ ان کے لی دعائے رحمت و استغفار نہ کرے وہ مومنین کی اقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں مومنین کی تین قسمیں فرمائی گئیں، مہاجرین، انصار، ان کے بعد والے جو ان کے تابع ہوں اور ان کی طرف سے دل میں کوئی کدورت نہ رکھیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی وہ مسلمانوں کی ان تینوں قسموں سے خارج ہے۔
Top